Gujjar's Global Gateway

Feb 3 Anniversary of Ch Remat Ali

 

نقاش پاکستان۔  ۔

چوہدری رحمت علی16 نومبر 1897ء میں ضلع ہوشیار پور (مشرقی پنجاب) کی تحصیل گڑھ شنکر کے ایک گاؤں موہراں میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حاجی شاہ محمد تھا جو ایک معمولی زمیندار تھے۔ رواج کے مطابق ابتدائی تعلیم قران مجید کی حاصل کی ۔ اینلگو سنسکرت ہائی اسکول سے 1913 میں میٹرک کی سند حاصل کی۔ ایف اے اور بی اے بالترتیب 1915ء اور 1918 میں اسلامیہ کالج سے پاس کئے۔ 1925 تک آپ لاء کالج لاہور میں زیر تعلیم رہے جہاں سے آپ نے قانون کی ڈگری حاصل کی۔

چوہدری رحمت علی اسلامیہ کالج لاہور کے نامور طالب علم تھے۔ جنوری 1931 میں انھوں نے کیمبرج کے کالج ایمنویل میں شعبہ قانون میں اعلٰی تعلیم کے لئے داخلہ لیا۔ اسلامیہ کالج کے مجلے “دی کریسنٹ” کے ایڈیٹر اور اور کئی دیگر طلباء سے متعلق بزموں کے عہدیدار بھی رہے ۔ اسلامیہ کالج میں بزم شبلی قائم کی ، جس کے 1915ء کے اجلاس میں محض 18 برس کی عمر میں تقسیم ملک کا انقلاب آفرین نظریہ پیش کیا ، جس کی مخالفت پر آپ اس بزم سے الگ ہو گئے ۔ آپ نے یہ نظریہ پیش کرتے ہوئے فرمایا
“ہندوستان کا شمالی منطقہ اسلامی علاقہ ہے ، ہم اسے اسلامی ریاست میں تبدیل کریں گے ، لیکن یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب اس علاقے کے باشندے خود کو باقی ہندوستان سے منقطع کر لیں۔ اسلام اور خود ہمارے لئے بہتری اسی میں ہے کہ ہم ہندوستانیت سے جلد سے جلد جان چھڑا لیں”

آپ نے “پاکستان دی فادرلینڈ آف پاک نیشن” ، “مسلم ازم” اور “انڈس ازم” وغیرہ کتابچے بھی لکھے۔چوہدری رحمت علی ایچی سن کالج لاہور میں لیکچرار مقرر ہوئے اور جیفس کالج میں بھی ملازمت کی۔ آپ نے بعض اخباروں میں ملازمت بھی اختیار کی۔

میں آپ نے لندن میں پاکستان نیشنل موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ 1933 

28 جنوری 1933 وہ دن تھا جب آپ نے “اب یا پھر کبھی نہیں” (Now OR Never) کے عنوان سے چار صفحات پر مشتمل شہرہ آفاق کتابچہ جاری کیا ۔ جو تحریک پاکستان کے قلعے کی آہنی دیوار ثابت ہوا۔ اور برصغیر کے مسلمانان و دیگر اقوام لفظ “پاکستان” سے آشنا ہوئے ۔آپ کے مطابق آپ نے یہ نام پنجاب (پ) افغانیہ (ا) کشمیر (ک) سندھ (س) اور بلوچستان (تان) سے اخذ کیا جہاں مسلمان 1200 سال سے آباد ہیں۔

1935 میں آپ نے ایک ہفت روزہ اخبار “پاکستان” کیمبرج سے جاری کیا۔ اور اپنی آواز پہنچانے کے لئے اور فرانس کا سفر کیا اور جرمنی کے ہٹلر سے انگریزوں کے خلاف مدد کا وعدہ لیا۔ اس کے علاوہ اسی سلسلہ میں امریکہ اور جاپان وغیرہ کا سفر بھی اختیار کیا۔

ایسے وقت میں جب ہندو و مسلم قائدین لندن میں جاری گول میز کانفرنسوں کے دوران وفاقی آئین کے بارے میں سوچ رہے تھے ، یکم اگست 1933 کو جوائینٹ پارلیمینٹری سلیکٹ کمیٹی نے چودھری رحمت علی کے مطالبہ پاکستان کا نوٹس لیتے ہوئے ہندوستان وفد کے مسلم اراکین سے سوالات کئے۔ جوابا سر ظفر اللہ۔ عبداللہ یوسف علی اور خلیفہ شجاع الدین وغیرہ نے کہا کہ یہ صرف چند طلباء کی سرگرمیاں ہیں ، کسی سنجیدہ شخصیت کا مطالبہ نہیں جس پر توجہ دی جائے۔

1938 میں آپ نے بنگال ، آسام اور حیدرآباد دکن کی آزادی کے حق میں بھی آواز بلند کی اور “سب کانٹیننٹ آف براعظم دینیہ ” کا تصور پیش کیا۔ جن میں پاکستان ، صیفستان ، موبلستان ، بانگلستان ، حیدرستان ، فاروقستان ، عثمانستان وغیرہ شامل تھے۔ جن میں جغرافیائی محل وقوع کا تعین کیا گیا تھا اور با قاعدہ نقشے دئیے گئے تھے ۔ اور 8 مارچ 1940 کو کراچی میں پاکستان نیشنل موومنٹ کی سپریم کونسل سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے حیدر آباد دکن کے لئے “عثمانستان” کے نام سے آزاد اسلامی ریاست کا خاکہ پھر پیش کیا۔

مورخ ڈاکٹر راجندر پرشاد اپنی کتاب India Divided میں رقمطراز ہیں کہ
“جہاں تک مجھے علم ہے چوہدری رحمت علی پاکستان نیشنل موومنٹ کے بانی صدر ہیں۔ وہ واحد شخص ہیں جو ہندوستان کی وحدت کو تسلیم کئے جانے کی مخالفت کرتے ہیں اور اسے مسلمانوں کو ظلم و بربریت میں مبتلا کرنے کے مترادف قرار دیتے ہیں”

مشہور ترک ادیبہ خالدہ خانم کی مشہور کتاب Inside India کا ایک باب چوہدری رحمت علی کے انٹرویو پر مشتمل ہے جو 1937 میں پیرس میں شائع ہوئی۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ
“پاکستان نیشنل موومنٹ کا منصوبہ فرقہ واریت سے الگ بات ہے۔ تحریک کے مطابق ہندوستان موجودہ حالت میں ایک ملک نہیں۔ بلکہ برصغیر ہے جو دو ملکوں ہندوستان اور پاکستان پر مشتمل ہے۔ تحریک کا بانی چوہدری رحمت علی کو قرار دیا جاتا ہے ، وہ قابل ترین قانون دان ہے لیکن وکالت ترک کر کے انھوں نے پاکستان نیشنل موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ اس وقت ان کی زندگی کا غالب مقصد ہندوستان کے مسلمانوں کا مستقبل ہے ۔ میں نے ملاقات کے دوران یہ محسوس کیا ہے کہ یہ تلخی جو ان کے دل میں ہے ہندوؤں کی معتصبانہ اور اسلام دشمن ذہنیت سے جوانی میں پیدا ہو گئی تھی ہرگز ان کے نظریہ پاکستان پر اثر انداز نہیں ہوئی اور وہ اس تحریک کی بنیاد ہندو عداوت پر نہیں رکھتے”

آپ لاہور میں ہونے کے باوجود 1940 کےمسلم لیگ کے تاریخ ساز جلسے میں شرکت نہ کر سکے کہ خاکسار تحریک اور پولیس میں تصادم کے باعث اس کشیدہ صورتحال میں پنجاب حکومت نے آپ پر پنجاب میں داخلے کی پابندی عائد کر دی۔ جبکہ بعض حلقوں کے مطابق اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ “مسلم لیگ” کے ساتھ “آل انڈیا” کے لفظ کا استعمال تھا۔ کیونکہ آپ اس کے سخت مخالف تھے اور اس خطے کا ذکر برصغیر یا دینیہ کہہ کرکرتے تھے۔

آپ مسلمانوں کو برصغیر کے اصل وارث سمجھتے تھے کیونکہ انگریزوں نے مسلمانوں سے ہی حکومت چھینی تھی اور تمام برصغیر کو ایک ریاست میں متحد کرنے والے بھی مسلم ہی تھے۔ اس جلسے میں اگرچہ آپ کا تجویز کردہ نام “پاکستان” شامل نہیں تھا مگر برصغیر کے ہندو پریس نے طنزاً اسے قرارداد پاکستان کہنا شروع کیا اور بالاخر یہ طنز سچ کا روپ دھار گیا۔

قیام پاکستان کے بعد آپ دو بار پاکستان تشریف لائے مگر نامناسب حالات اور رویوں کے باعث آپ دلبرداشتہ ہو کر دوبارہ برطانیہ چلے گئے اسی دوران آپ کا 20 مئی 1948 کو پاکستان ٹائمز میں انٹرویو بھی شائع ہوا۔

آپ کا آخری پتہ 114 ہیری ہٹن روڈ تھا اور آپ مسٹر ایم سی کرین کے کرائے دار تھے۔ مسٹر کرین کی بیوہ کے مطابق چوہدری رحمت علی اپنا خیال ٹھیک سے نہیں رکھتے تھے ۔ جنوری کے مہینے میں سخت سردی کے دوران ایک رات آپ ضرورت کے کپڑے پہنے بغیر باہر چلے گئے اور واپسی پر بیمار ہو گئے ۔ آپ کو ایولائن نرسنگ ہوم میں داخل کرایا گیا جہاں آپ کا ہفتے کی صبح انتقال ہوا۔

ایمنوئیل کالج ، کیمبرج شہر کے قبرستان اور کیمبرج کے پیدائش و اموات کے ریکارڈ کے مطابق 3 فروری 1951 بروز ہفتہ کی صبح اس عظیم محسن نے کسمپرسی کی حالت میں برطانیہ میں اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔

17 روز تک کولڈ اسٹوریج میں ہم وطنوں ، ہم عقیدوں ، ہم مذہبوں کا انتظار کرتے کرتے بالاخر دو مصری طلبہ کے ہاتھوں اس غریب وطن کو کیمبرج کے قبرستان کی قبر نمبر بی – 8330 میں دفن کر دیا گیا 
(کیمبرج سمیٹری ، مارکٹ روڈ – کیمبرج – برطانیہ) ۔

وزراتوں ، الاٹمنٹوں ، کلیموں ، ہوس اقتدار کے ماروں کو خبر بھی نہ ہوئی کہ صف اول کا مجاہد 200 پونڈ کا قرض اپنی تجہیز و تکفین کی مد میں کندھوں پر لے چلا ہے ۔مگر سات دہائیوں کے بعد بھی امانتاً دفن کیا گیا اس مجاہد کا جسد خاکی جس نے مسلمانان برصغیر کے لئے نہ صرف خواب دیکھے بلکہ ان کی تعبیر کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ لٹا دیا یونہی دیار غیر میں چند گمنام مقبروں کے درمیان سال بہ سال جمنے والی دھول میں غائب ہو جائے گا کہ ہماری آنے والی نسلیں اس کے نام تک سے نہ آشنا ہو ں گی ؟

Read Masware Pakistan Kown By M AshrafAdvocate Sahib

Masware Pakistan Kown By M Ashraf Advocate Sahib is a well-researched work to tell the readers about Ch Rehmat Ali.Ch Rehmat Ali was the mind behind the word “Pakistan “All this classic work is a proof that Ch. Rehmat Ali is the real hero who coined the title for the newborn State.You can either download as a pdf file or you can read it online.

 

 

Musawar Pakistan Koan by gujjarlibrary on Scribd

Gujjars of Swat

The originator of the present famous family of Swat was a Muslim saint Abdul Ghafoor a Khatana Gujjar of Hazara district from where he went to Buner territory. He was a pious man and the people respected him so greatly that they called him AKHUND SAHIB (S.G. Page 398 and 399,T and C of N.W.F.P by Ibbestson page 11 etc).
 
It was the mid-years of nineteenth-century A.D. when Muslim tribes were fighting against each other for the possession of swat valley. On the intervention of honourable Akhund Sahib the killing was stopped and such was his saintly influence that the chiefs of all tribes unanimously made him the ruler of the valley.Akhund Sahib administrated the valley according to Muslim Laws. Peace and tranquility provided and the agriculture and trade flourished in the territory. Akhund Sahib had two sons by his wife who belonged to Nikbi Khel.
After the death of Akhund Sahib, the tribal chiefs again started fighting and killing which continued for years. After all, the tribal chiefs agreed to give the control of the valley in hands of Honourable GUl shahzada Abdul Wadood, the son of Mian Gul Abdul Khaliq who was the son of Akhund Sahib.The wife of Mian Abdul Wadood was the daughter of Honorable Mirza Afzal-ul-Mulk the ruler of Chitral. The Britishers by trick put Chitral under suzerainty of Kashmir.The Chitral ruler gave two horses every year to the Rajia of Kashmir and the Raja provided chitral with grains and sugar etc. Swat thus went under protection of the Britishers.
 
During the rule of Mian Gul Muhammad, Abdul Haq Jehanzeb the son of Mian Abdul Wadood the state acceded to Pakistan in 1947 A.D. The present prince Muhammad Aurangzeb Khan son of Honourable Jahanzeb married the daughter of filed Marshal Mohammad Ayub Khan in 1955 A.D. Thus by intermarriages with the other castes, the family as branch of the imperial Gujjars.
Honorable Jahznzeb started a Degree College at Saidu Sharif the capital of the State and four High Schools at Mangora,Chakesar, Matta, and Dagar. Fourteen middle Schools, Twenty-eight Lower middle schools, and fifty-six primary schools were established. There was a girl high school and high-class religious schools at Saidu Sharif. In all the schools the poor students were granted scholarships. The state was an exemplary state during British Rule. The Gujjars were very poor people in Swat valley but nowadays they have diverted their attention towards education and are holding good posts I government towards education and re holding good posts in government services. They also have a firm stand in politics of Pakistan. At then Prince Aurangzed Khan is also Governor of Baluchistan.
 
Source: A Short History of The Gujjar” by Rana Ali Hasan Chauhan (1998).

Gujjars of Mansehra

The word Gujjar is driven from a Sanskrit word Gorjar that means brave. There are
various theories about the origin of the Gujjars. According to Mahabharatha the
Gujjars came with the Aryans from outside. Gujars, Gujjar, gurjar or gorjara are the
members of the many groups, or casts of the subcontinent, many inhabiting Punjab,
(Pakistan), Jammu and Kashmir, Punjab (India) and Gujrat, with some groups in
Rajastan and Haryana. Gujjars belong to the Kshatriya and Brahmin casts.
 
 
The Gujjars were designated by the British as a Martial Race. The martial race was a
designation created by the British Raj to describe races that were thought to be
naturally warlike and aggressive in battle, and possessing qualities like courage,
loyalty, self-sufficiency, physical strength, discipline, and tenacity.
 
 
There are various theories about the origin of the Gujjar tribe. Som are as follow:
 
 
   •   According to Maj. Mangali the Gujjar tribe is a branch of the Scythians.
   •   He says, “The U.P, Jaats and the Gujjars are branches of the Sythians”.
   •   According to Waisali the Gujjars came to the Subcontinent in the 3rd Century
       A.D. He Writes, “The Huns and the Gatai are the two branches of the
       Sythiand and they came from the Qandahar and occupied Kabul and Kashmir.
       In the 3rd Century A.D they migrated towards the south and settled there.
   •   Sir Olf Careo writes that the Gujjar came to the Subcontinent with White
       Huns and after the falls of the Huns they remained here in the Subcontinent.
   •   V.A. Smith is of the view that the Gujjar was one of the strongest branches of
       the Huns who ruled over Qanuch.
 
 
 
  •   Most of the Rajput families are the decedents of the Gujjars.      The Huns
       permanently resided in Rajputana and Punjab of whom the Gujjars were in
       majority.
   •   Balseo writes that the Gujjars were among the subjects of the White Huns.
   •   According to S.S Burni the Gujjars are the descendents of the Scythians or
       the Whit Huns.
   •   Dr. Syed Mughin ul Haq says, “ The Gujjars who belonged to any of the
       Central Asian nations, after the Huns came to the Subcontinent and played a
       major role in the history of the of the Indo Pak”.
   •   Prof. Syed Abu Zafar Nadvi writes, “The Gujjar came to the subcontinent in
       5th Century A.D. The original home of the Gujjars is Garjistan which is now
       called as Garjistan or Jarjia. When these Gujjars came through Persia and
       attacked Hind, they captured Punjab and Sindh then went              through
       Rajputana, Marwar and established their state in Gujrat, Pona and Daccan.
   •   George Cunigham is of the view that the original home of Gujjars is Gujrat
       and due to some unknown reasons they left their homeland and went to
       Jammu and Kashmir.
   •   According to Rana Hassan Chohan the Gujjars are the original inhabitants of
       Hindustan, He says, “ The Gujjar are Kashtri Aryans whose mother language
       was Sanskrit from which emerged the Gujrati/Gojjri Language, their religion
       was Vadic, their book was Gita and the name of their homeland was Gujrat.
 
   •   According to the Piam Shah Jahan Puri, Balakot was an ancient village of the
       Gujars. The Gujjars were converted to Islam before the Mughal reign and
       after accepting Islam they ruled over this region till 17th century A.D, then
       they were defeated by the Afghan Swatis who established their rule here in
       17th century A.D.
 
 
In 3rd Century A.D Hazara was ruled by the Gujjar Hindu Rajas, and then they
accepted Islam. And people of Kaghan were also converted at the same time.
 
The Gujjars participated in the freedom war and help syed Ahmad Baralvi, a Muslim
Mujahid who fought against the Sikh and was killed at Balakot in 1830.
 
 Lifestyle:
 
A large number Gujjars live in the Kaghan Valley some of them are Grazers while
others are agriculturists. The grazers are nomads and move from one place to
another according to the climatic condition. They are very different from the others
and they have a unique life style. The others call them with different names like
Aajri, Bakarwal, Pala, Kaghani and Muqaddam etc. Their life is very tough and to
some extent is similar to the prehistoric people. A Gujjar can spend his night in a
place where a layman could not dare to go during the day.
 
 
Akbar S. Ahmad says that it is the climatic condition that forces the Gujjars to
migrate from one place to another. They are very hard working, brave and
courageous and can easily face any harsh situation, specially the severe climatic
condition (rain and wind and cold nights) They migrate to the upper Kaghan i.e.
Naran, Bata Kundi, Burwai, Jhalkad up to Babu Sar Pass with their cattle’s in the
beginning of the summer season and after spending eight months they come back
to the plains of Mansehra, Balakot, Gari Habibullah, Abbott Abad and Hari Pur.
 
Gujri Language:
 
The Gujjars of Kaghan have their own specific language called as Gori and it is one
of the ancient languages of the world. According to Dr. Sabir Affaqi the origin of
Gujri goes back to 400 B.C., while Rafiq Ahmad says, “The Gujri language has a rich
vocabulary”. He writes, “The experts are of the view that Gujri is the mother of Urdu
language and in the beginning, Urdu was also called as Gujri” (p.168; Sakhab K.).
There is no prose book in the Kaghan valley written in Gujri language. However, late
Israil Mahjur (1996) and Muhammad Ismail Zabigh were the two known poets
both belong to Patlang.Muhammed Ismail established an institute of Gujri literature and
was the first president of that institute and Published     books (Nala Dil, Intizar,
Haqiqat-o-Majaz and Guldasta Zabigh. And it was due to his efforts that Gujri
Programs have been telecasted from Radio TrarKhal.
 
Dresses:
 
The dress of the Gujjars is also different from other tribes. The Young usually
wearing Shalwar and kamees vary in colours i.e. white kamees and black shalwar,
and they use decorated scarves. The aged wear turban while the female wear
shalwar kamees and shawls, embroidered. They also use necklaces and huge
bracelets.

چوہدری رحمت علی۔۔ایک عظیم مفکر تحریر شیر افصل گُٗجر صاحب

تاریخ انسانی کے ارتقائی منازل کامطالعہ کرنے سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ بعض شخصیتوں نے اپنی خداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے وسعت فکر کی بنیاد پر ایسے کارنامے سر انجام دیے کہ جنہوں نے آنے والی تاریخ کا رخ بدل ڈالا اور ایسی شخصیات اور سماج کے لئے انکی علمی خدمات کو تاریخ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے حافظہ میں محفوظ کر لیا۔برصغیر کی تاریخ میں بھی ایسا ہی ایک روشن نام ہے جس کی فکر و فراست نے ہندوستان کے سیاسی طور پر منتشر مسلمانوں کو ان کی منزل سے روشناس کروایا اور انہیں ایک الگ وطن کی جدوجہد کے پر آمادہ کرنے کے لئے مدلل علمی کام کیا،دنیااس شخصیت کو چوہدری رحمت علی کے نام سے جانتی ہے۔یہ عظیم مفکر سولہ نومبر7 189کو ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔تاریخ تحریک پاکستان میں چوہدری رحمت علی کا نام اس بنا پر سب پر فوقیت کا حامل ہے کہ انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو” ہندوستانیت”کے چنگل سے نجات دلانے کے لئے (now or never )کے نام سے ایک ایسی دستاویز جاری کی جس میں ہندوستان کے مسلمانوں کے خوابوں کی مملکت کا نام ”پاکستان” تجویز کیا اور مسلمانوں کو الگ قوم کے تصور سے روشناس کروایا،اس دستاویز میں پہلی بار ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ آزاد اور خود مختار ملک کے قیام کے مطالبہ کو مدلل انداز میں پیش کرتے ہوئے دلائل سے یہ ثابت کیا کہ انڈیا کے مسلمان اپنے مخصوص مذہب،ثقافت،تاریخ،خانگی زندگی کے معاملات جیسے شادی بیاہ،وراثت،اپنی روایات،معاشی نظام،اپنے خاص ملی مقاصد ،قومی رسومات،لباس اور خوراک وغیرہ میں ہندوؤں سے مختلف ہیں،جب وہ ایک دوسرے سے اتنے اختلاف رکھتے ہیں تو وہ آپس میں ایک قوم کیسے کہلا سکتے ہیں،انہیں متحدہ قومیت قرار دینا اوراکھٹے رہنے پر مجبور کرنا غلط ہو گا۔اس انقلاب آفریں دستاویز کے اندرہندوستان کے مسلمانوں کے لئے ایک واضع منزل کے نشانات موجود تھے۔سیاسیات کے طالبعلم اس بات سے با خوبی آگاہ ہیں کہ now or never کی اشاعت کے بعدہندوستان کے مسلمانوں میں ایک انقلاب پیدا ہوا اور صرف سات سال کے عرصہ میں مسلمانان ہند میں یہ نظریہ اس قدر مقبول ہوا کہ انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد کے لئے اپنا لیا۔24 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ سیشن میں مسلمانوں کی آزادی کے حصول کے لئے ”قرارداد لاہور”پاس ہوئی تو اس میں پاکستان کا نام تک نہیں تھا مگر ہندو پریس نے اسے” چوہدری رحمت علی کے پاکستان کی قرارداد”قرار دیا۔اس تاریخی قرارداد کے حق میں بانی پاکستان جناب قائد اعظم محمد علی جناح نے جو تقریر فرمائی اس کے بارے میں عبدالسلام خورشید نے اپنی کتاب (history idea of pakstan)میں تحریر کیا ہے کہ ”ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جناب قائد نے تقریر کرنے سے پہلے(now or never )کو پڑھا کیونکہ آپ نے وہی دلائل اور سیاسی تلمیحات استعمال کیں جو چوہدری رحمت علی نے (now or never) میں کی تھیں۔اگر یہ کہا جائے کہ now or never نے ہندوستان کا جٖغرافیہ تبدیل کیا تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہو گا۔یہ حقیقت ہے کہ اس تاریخ ساز دستاویز نے دنیا کے نقشہ پر مسلمانوں کی ایک مملکت کا اضافہ کیا۔یہ بے حد اہمیت اور سیاسی نوعیت کی حامل تاریخی دستاویز آٹھ صفحات پر مشتمل تھی جس میں انہوں نے انڈیا کی تاریخ کے ایک پر آشوب دور کے ہندو مسلم مسائل کے بارے میں اپنے قلبی،تاثرات،ذہنی کیفیات اور مذہبی و سیاسی نظریات پر روشنی ڈالی ہے۔رحمت علی نے اپنے مخصوص اسلوب نگارش سے کام لیتے ہوئے ٹھوس حقائق اور مظبوط دلائل کی بنیاد پر ان اہم سیاسی مذہبی،ثقافتی اور معاشی امور کا بنظر غائر جائزہ لیا ہے اور ان کا حل بھی پیش کیا ہے۔اس دستاویز میں بھرپور دلائل کے ساتھ پاکستان کے قیام کا جواز پیش کیا گیا تھا اس کے آغاز میں ہندوستان کے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے چوہدری رحمت علی فرماتے ہیں”ہندوستان کی تاریخ اس نازک موڑ پر جبکہ ہندوستانی رہنماء اس ملک کے لئے وفاقی آئین کی تیاریوں میں مصروف ہیں،ہم اپنے مشترکہ ورثے اور تیس ملین مسلمانوں کے نام پر جو پاکستان (پنجاب ،افغانیہ (خیبر پختونخوا)کشمیر ،سندھ اور بلوچستان ) میں رہ رہے ہیں،آپ سے تعاون کی اپیل کرتے ہیں۔”یہ کہ گول میز کانفرنسوں کے مسلمان شرکاء نے وفاق ہند کی تجویز تسلیم کر کے مسلمان قوم کے ساتھ شرمناک نا انصافی کی ہے،وفاق ہندوستان کی قبولیت مسلمانوں کے لئے موت کے پروانے پر دستخط کے مترادف ہے،ہندوستان اپنی موجودہ شکل میں نہ ہی ایک ملک ہے اور نہ ہی اس میں ایک قوم آباد ہے بلکہ برطانوی حکومت کے تحت اسے پہلی مرتبہ ایک ملک کی شکل دی گئی۔ہندوستان کے پانچ شمال مغربی صوبوں کی کل چالیس ملین آبادی میں سے تیس ملین ہم مسلمان ہیں،ہمارا دین،ہماری تہذیب،تاریخ رسم رواج،نظام معیشت،قوانین وراثت اور شادی بیاہ کی رسومات ہندوستان میں رہنے والی دیگر اقوام سے مختلف ہیں، ہم نہ ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکتے ہیں اور نہ آپس میں شادی بیاہ کر سکتے ہیں۔اگر ہم مسلمان وفاق ہندوستان کے جھانسے میں آگیے تو ایک حقیر سی اقلیت میں تبدیل ہو کر رہ جائیں گے اور یہ ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کے خاتمے کے مترادف ہو گا”۔چوہدری رحمت علی اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے لکھتے ہیں”اندازہ کیجیے ہم تیس ملین مسلمان دنیا کی آبادی کا دسواں حصہ ہیں،پانچ صوبوں پرمشتمل پاکستان کا رقبہ اٹلی سے چار گنا،جرمنی سے تین گنا اور فرانس سے دو گنا ہے ،اس کی آبادی کنیڈا سے سات گنا،سپین سے دو گنا،جبکہ اٹلی اور فرانس کے برابر ہے۔یہ وہ ناقابل تردید حقائق ہیں جن کی بنیاد پر ہم پاکستانی کہ سکتے ہیں کہ ہم علیحدہ قومیت رکھتے ہیں اور ہم یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ہندوستان سے علیحدہ ایک مسلم وفاق کے قیام کی تجویز منظور کر کے ہماری الگ قومی حیثیت تسلیم کی جائے”۔چوہدری رحمت علی خطبہ الہ آباد کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ”ہمارا مطالبہ بنیادی طور پر اس تجویز سے مختلف ہے جو سر علامہ محمد اقبال نے ان صوبوں کو ایک ایسی ریاست میں شامل کرنے کے بارے پیش کی تھی جو وفاق ہند کا حصہ ہو۔ہمارا منصوبہ اس کے بالکل برعکس ہے،ہم ان علاقوں پرمشتمل ایک علیحدہ مسلم فیڈریشن کا قیام چاہتے ہیں کیونکہ ہندوستان میں اس وقت تک نہ تو امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی مسلمان اپنی قسمت کے آپ مالک بن سکتے ہیں جب تک ہندو وفاق کے چکر میں غالب رہے”چوہدری رحمت علی اس دستاویز میں انگریز حکمرانوں اور ہندوستانی رہنماؤں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ”کیا ہمیں انگریز حکمران،ہندو اور مسلم رہنماؤں سے ،جو وفاق کے قیام کی حمایت کر رہے ہیں یہ پوچھنے کی اجازت ہے کہ جب روس کو نکال کر یورپ میں اتنے ہی رقبے پر ایک تہذیب،ایک ثقافت اور ایک معاشی نظام رکھنے والی چھبیس قومیں آباد ہیں تو ہندوستان میں دو علیحدہ مذاہب رکھنے والی مسلم اور غیر مسلم اقوام امن اور خوشحالی سے کیوں نہیں رہ سکتیں لیکن افسوس کہ ہمارے رہنماہ ہمارے مطالبہ کی حمایت نہیں کر رہے”ْ۔”یہ کہ ہم اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک المیہ سے دوچار ہیں،یہ ایک گروہ کی پستی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ انتہائی اہم مسئلہ ہے جس سے نہ صرف اسلام متاثر ہو گا بلکہ لاکھوں مسلمانوں کی تاریخ بھی جو کل تک سارے ہندوستان کے مالک تھے۔اگر ہم اس مرحلے پر بھی وفاق ہند میں شمولیت سے گریز کریں تو روشن مستقبل ہمارا منتظر ہے۔معاملہ ”اب یا کبھی نہیں”کا ہے۔ہم یا تو زندہ رہیں گے یا ہمیشہ کے لئے مٹ جائیں گے،کیا ہمارے متعلق یہ کہا جائے گا کہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے اپنے عظیم ورثہ کو تباہ کر ڈالا”۔اس دستاویز کا تجزیہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ چوہدری رحمت علی نے بھر پور دلائل کے ساتھ ایک جامع منصوبہ پیش کیا اوردو قومی نظریہ کو اجاگر کیا اور جو اعتراضات اس سکیم کے بارے میں اٹھائے جا سکتے تھے ان کا پیشگی جواب ایک مدلل انداز میں دیا ۔چوہدری رحمت علی نے ہر لحاظ سے پاکستان کے قیام کا جواز ثابت کیا اس سے پہلے پیش کی گئی کوئی تجویز اس قدر واضع،دو ٹوک اور مدلل نہ تھی اور سکیم پیش کرنے کے ساتھ ہی کسی ملک کا نام تجویز کرنے کی شاید یہ واحد مثال تھی۔چوہدری رحمت علی نے زمانہ طالبعلمی میں اسلامیہ کالج لاہور میں بزم شبلی کی بنیاد رکھی تو افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا،” ہندوستان کا شمال مغربی علاقہ ،مسلم اکثریتی علاقہ ہے،ہم اسے ایک اسلامی ریاست بنائیں گے لیکن یہ اسی صورت ممکن ہو سکتا ہے کہ ہم ہندوستانی قومیت سے قطع تعلق کر لیں،اسی میں ہماری اور ہمارے دین،اسلام کی بہتری ہے یہ انیسو پندرہ کی بات ہے۔pakstan father land of the pak nation صفحہ 123 ۔چوہدریہ رحمت علی کی بزم شبلی سے خطاب کی توثیق حکیم آفتاب احمد قریشی نے اپنے والد محمد حسن قریشی کے حوالے سے کی ہے ،جو چوہدری رحمت علی کے ہم جماعت تھے انہوں نے ”کاروان شوق ” ادارہ تحقیقات پاکستان ،جامعہ پنجاب لاہور۔صفحہ نمبر 44 پر تحریر کیا ہے کہ ”چوہدری رحمت علی ،مولانا شبلی سے بے حد متاثر تھے ،چوہدری رحمت علی نے دیگر دوستوں کے ہمراہ لاہور میں بزم شبلی قائم کی تھی جس کے اجلاس میں انہوں نے ،1915 میں تقسیم ہندوستان کا انقلاب آفریں نظریہ پیش کیا،یہ گویا مطالبہء پاکستان کی ابتداء تھی ‘ ‘ انیسو 33 میں اس دستاویزات کی اشاعت کے بعد چوہدری رحمت علی نے بڑی دانشمندی سے اسے ایسے حلقوں تک پہنچایا جن کا یا تو سرکاری امور میں دخل تھا یا رائے عامہ مرتب کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے تھے اس فیصلہ نے بعد ازاں مثبت کردار ادا کیا،برطانوی پارلیمنٹ نے ہندوستان کے لئے وفاقی نوعیت کا آئین تیار کرنے کے لئے اکے جائنٹ سلیکٹ کمیٹی تشکیل دے رکھی تھی۔ڈاکٹر کے کے عزیز کے مطابق”یہ پمفلٹ جائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے انگریز اور ہندوستانی اراکین کو بھی بھیجا گیا جو ہندوستان کے لئے وفاقی آئین کی تیاری کے سلسلے میں مذاکرات میں شریک تھے۔یہ کاپیاں انڈیا آفس لائبریری میں محفوظ ہیں” Rehmat Ali A Biography,p.86۔اس سلسلے میں جائنٹ سلیکٹ کمیٹی کا پہلا اجلاس یکم اگست انیسو تینتیس کو منعقد ہوا اس اجلاس کی کاروائی کا اندازہ بھی لگا لیں،سوال نمبر 9598”)شرکاء میں سے کوئی یہ بتانا پسند کرے گا کہ کیا کوئی ایسا منصوبہ ہے جس کا مقصد چند صوبوں پر مشتمل پاکستان کے نام سے علیحدہ فیڈریشن کا قیام ہو؟”۔عبداﷲ یوسف علی:”جہاں تک مجھے معلوم ہے یہ ایک طالبعلم کی سکیم ہے کسی زمہ دار شخص نے یہ تجویز پیش نہیں کی ہے”۔sir Reginaldـ: میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں”کیا آپ میں سے کوئی اس سکیم کی تفصیلات سے آگاہ ہے جسے پاکستان کی سکیم کہا جا رہا ہے؟”سر ظفر اﷲ خان ہم پہلے ہی اس کا جواب دے چکے ہیں کہ یہ ایک طالب علم کی سکیم ہے اور اس میں کچھ نہیں ہے”۔سوال نمبر 9599)” Mr Isaac Footپاکستان کیا ہے؟”سر ظفر اﷲ خانـ:”جہاں تک ہم سمجھتے ہیں یہ ایک تخیلاتی اور نا قابل عمل تجویز ہے اور اس کا مقصد چند صوبوں پر مشتمل ایک فیڈریشن کا قیام ہے”۔ sir Reginaldـ: سوال نمبر9600)”مجھے پاکستان کی فیڈریشن کے بارے میں معلومات دستیاب ہوئی ہیں”ڈاکٹر خلیفہ شجاع الدینـ:”یہ کہ دینا ہی کافی ہو گا کہ تاحال کسی زمہ دار نمائندہ شخص یا تنظیم نے اس تجویز کی حمایت نہیں کی ہے”۔p.300-301.،our freedem fighter جی الانہ ۔جائنٹ سلیکٹ کمیٹی کمیٹی کے تیرہ نومبر انیسو تینتیس کو منعقد ہونے والے اجلاس کی کاروئی میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال رہی۔اس اجلاس کی کاروائی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلمان رہنماء پاکستان کی سکیم سے وابستہ ہونا تو دور کی بات اس سے کسی قسم کے تعلق کے بھی روادار نہیں تھے اور ابتدائی عرصہ میں جس وقت اس تجویز کو زیادہ پزیرائی نہیں مل رہی تھی اس کی تحلیق کا زمہ دار ایک طالبعلم کو قرار دیا جاتا رہا اور سکیم کو تخیلاتی اور نا قابل عمل گردانہ گیا۔چوہدری رحمت علی پاکستان کے بارے میں لٹریچر مسلسل برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین کو بھیجتے رہے اوراس کے علاوہ پاکستان کے بارے میں اخبارات میں مضامین اور خطوط کی اشاعت کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا جس کی وجہ سے پاکستان سکیم بڑے پیمانے پر متعارف ہوئی۔چوہدری رحمت علی نے 8 جولائی انیسو پینتیس کو ایک خط برطانوی پارلیمنٹ کے نام تحریر کیا جس میں ہندوستان میں وفاقی آئین کا نفاذ نہ کرنے کی اپیل کی گئی تھی یہ خط اس دوران لکھا گیا جب گورنمنٹ آف انڈیا بل ہاؤس آف لارڈز میں زیر بحث تھا۔چوہدری رحمت علی ہاؤس آف لارڈز کے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں ،” کیا میں پاکستان کے عوام کی طرف سے اس نازک مرحلہ پر جب کہ پارلیمنٹ گورنمنٹ آف انڈیا بل کو آخری شکل دے رہی ہے ، پاکستان کے زبردستی وفاق ہند میں شامل کیے جانے کے خلاف آپ سے ہمدردی اور تعاون کی اپیل کر سکتا ہوں۔ گورنمنٹ آف انڈیا بل نے پاکستان کی قومی زندگی کے خلاف خطرات پیدا کر دیے ہیں،مجھے امید ہے کہ آپ ہندوستان سے الگ ہماری قومی بقاء کے مطالبے ،پاکستان کی حمایت کریں گے جو کہ انصاف کے اصولوں کے مطابق ہے ۔میرے لئے یہ لازم ہے کہ میں برطانوی عوام اور پارلیمنٹ کے اراکین کے سامنے انڈو پاکستان مسئلہ کی بنیادی اہمیت بیان کروں اور ہندوستان اور پاکستان میں رہنے والی قوتوں کے بنیادی فرق سے آپ کو آگاہ کروں ۔جب تک اس بنیادی فرق کو نہ سمجھا جائے سماجی،تاریخی اور مذہبی بنیادوں پر ہندوستان سے علیحدہ وفاق پاکستان کے قیام کے ہمارے مطالبے کی اہمیت کا احساس نہیں ہو سکتا۔پاکستان کے لوگ نہ تو ہندوستانی شہری ہیں اور نہ ہی ہندوستان کی زمین پر آباد۔پاکستان ہمارا ملک ہے دونوں قوموں کی الگ حیثیت ہے اور دونوں میں کوئی چیز مشترک نہیں ہمارے طرز زندگی کے بنیادی حصول ان سے مختلف ہیں جن کے تحت ہندو زندگی گزار رہے ہیں ۔قدرت نے پاکستان کو جغرافیائی پہچان دے رکھی ہے،دریائے جمنا ان دونوں ملکوں کے درمیان سرحد کی حیثیت سے بہہ رہا ہے کوئی طاقت ہمیں وفاق ہند کو تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی کیونکہ ہمیں احساس ہے کہ اس کی قبولیت خود کشی کے مترادف ہے۔اگر چہ یہ جدو جہد طویل اور تھکا دینے والی ہو گی اور ہمیں بے پناہ مشکلات کا سامنا بھی ہو گا لیکن ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے،”چوہدری رحمت علی اور تحریک پاکستان از عبدالحمید صفحہ 86/87 ۔ڈاکٹر کے کے عزیز کے مطابق 8مئی1935 ء میں منعقدہ ہاؤس آف کامن کے اجلاس میں پہلی مرتبہ پاکستان کا نام سننے میں آیا ۔ہاؤس کے ایک نامور رکنMr.Vyvyan Adams نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ”برطانوی پارلیمنٹ کی جائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے سامنے حیران کن شہادتیں پیش کی گئی ہیں۔جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب،شمال مغربی سرحدی صوبے،سندھ،کشمیر اور بلوچستان پر مشتمل ایک علیحدہ وفاق کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔اس طرح کی سوچ ہماری پالیسی کے خلاف ہے اور مسلمانوں سے وابستہ ہماری توقعات کے برعکس بھی”ہاؤس آف کامن میں پاکستان پر بحث قابل ذکر بات تھی اور اس حقیقت کی عکاس بھی کہ حکومت اس ساری صورتحال پر پریشان تھیRehmat Ali A Biography,p.133۔مسلمان رہنماؤں کا رد عمل بھی فطری بات تھی ۔اس نظریہ کی اشاعت سے پہلے مسلمان رہنماہ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے انگریز حکمرانوں کے سامنے مختلف مطالبات پیش کر چکے تھے جن میں وفاق کے قیام کی صورت مرکز میں ایک تہائی نمائندگی کا مطالبہ نمایاں تھا لیکن اس دستاویز کے زریعے ایک بالکل نیا مطالبہ سامنے آیا جو مسلمان رہنماؤں کے موقف سے ہم آہنگ نہیں تھا اس لئے ان کی طرف سے اس کی حمایت کا امکان نہیں تھا۔چوہدری ر حمت علی چونکہ کسی بڑی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں تھے اس لئے ان کی تجویز کو ابتدائی دور میں زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔اس سلسلے میں چوہدری رحمت علی کی قائد اعظم سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے Larry Collinsاور Dominique Lapierre لکھتے ہیں کہ 1933” میں آل انڈیا مسلم لیگ کے رہنماہ محمد علی جناح کو اپنے منصوبہ سے آگاہ کرنے کے لئے چوہدری رحمت علی نے لندن کے Wallroff ہوٹل میں ان کے اعزاز میں کھانے کا اہتمام کیا اور ان سے پاکستان کی سکیم کے بارے میں تفصیل سے بات چیت کی ۔لیکن محمد علی جناح نے اس تجویز کو ناقابل عمل قرار دیا ”۔ midnight london1975)p.101. Freedom at ( ۔اسی کتاب کے صفحہ 34 پہ لکھاہے کہ ”چوہدری رحمت علی کے پاس نئی مجوزہ اسلامی ریاست کے لئے نام بھی تھاجو ان صوبوں کے ناموں کے پہلے حروف سے اخذ کیا گیا تھا جو اس میں شامل ہیں اور یہ نام پاکستان تھا یعنی پاک لوگوں کی سرزمین” ۔تحریک پاکستان کے ایک سرگرم رکن چوہدری خلیق لزمان کو چوہدری رحمت علی نے چاہے پر مدعو کیا اور اور پاکستان کے بارے میں اپنا منصوبہ ان کے سامنے پیش کیا۔اس بارے میں چوہدری خلیق الزمان کا رد عمل ان کے اپنے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں ـ:”میں نے چوہدری رحمت علی کو بتایا کہ میں ان کے نظریے کا حامی ہوں لیکن ہندوستان کی تقسیم کے لئے لفظ پاکستان استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہوں کیونکہ اس سے ایک طرف تو ہندو برہم ہوں گے اور دوسری طرف انگریز حکمرانوں کے شکوک اور شبہات میں اضافہ ہو گا”۔pathway to pakistan,(lhr1961),p.200۔ڈاکٹر کے کے عزیز کے مطابق ستمبر 1934 میں ایک علاقائی اخبار Directory south Devon journal Torquay کے ایڈیٹر نے لندن میں چوہدری رحمت علی سے دو مرتبہ ملاقات کی اور ان کے دلائل سے متاثر ہو کر انڈین فیڈریشن کے بارے میں ایک مفصل مضمون تحریر کیا جو رحمت علی کے نظریات کی ترجمانی کرتا تھا اس مضمون کا عنوان تھا،indian white paper proposals muslim oposition special interview with leader of new pakistan movement.”۔یہ بارہ ستمبر انیسو چونتیس کے شمارے میں شائع ہوا۔اسی طرح ڈیلی ٹیلی گراف نے نو ستمبر 1935 کی اشاعت میں پاکستان کے بارے میں ایک مضمون Annonymous contributor کے عنوان سے شائع کیا جس میں تحریر تھا کہ پاکستان نیشنل موومنٹ کے بارے میں کچھ علم نہ تھا لیکن حال ہی میں مجھے چند خوبصورت پمفلٹ پاکستان نیشنل موومنٹ کے بانی صدر چوہدری رحمت علی کی طرف سے موصول ہوئے ہیں۔با شعور پاکستانی وفاق ہندوستان کے خلاف ہیں اور وہ مسلمانوں کے اکثریتی صوبوں پر مشتمل علیحدہ ملک پاکستان کے قیام کے حامی ہیں۔اس مضمون میں لفظ پاکستان کی تشریح بھی کی گئی تھی اور پاکستان کا نقشہ بھی شائع کیا گیا تھا۔ اسی طرح irish independent نے اکیس اکتوبر انیسو پینتیس ،جریدے and the Great Britian The East نے انیس نومبر انیسو چھتیس کو مضامین اورMorning Post چودہ جون انیسو سینتیس کو پاکستان سکیم کے حق میں ایک خط شائع کیا Rehmat Ali A Biography,p.180۔ڈاکٹر خورشید کمال کے مطابق جرمنی وہ واحد ملک تھا جہاں چوہدری صاحب کے پمفلٹ now or never کا مقامی زبان میں ترجمہ کر کے تقسیم کیا گیا۔چوہدری رحمت علی نے اپنے منصوبے کی ترویج کے لئے 1937 میں جرمنی کا دورہ کیا اور مختلف شہروں میں جا کر اساتذہ اور طلباء سے ملاقاتیں کیں اور انہیں اپنے منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ان میں سے بعض طلباء نے متاثر ہوکر مقامی اخبارات میں مضامین بھی تحریر کیے۔حکمران نازی پارٹی کے اخبارVolkischer Beobatchter بارہ دسمبر انیسو سینتیس کی اشاعت میں پاکستان نیشنل موومنٹ کے اغراض و مقاصد کے مضمون بعنوان ( Aims and Significance of the pakistan National Movement in India)شائع کیا۔جس میں کہا گیا کہ یہ نوجوان طلباء کی تحریک ہے،جس کے زیادہ تر حامی یورپ اور انگلستان میں زیر تعلیم ہیں اور بعض جرمنی میں بھی ہیں یہ نوجوان ان کی تحریک کا سرمایہ ہیں۔ Rehmat Ali A Biography,p.183۔پروفیسر جمیل واسطی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے”چوہدری رحمت علی کو انگریزی اور اردو پر عبور حاصل تھا،پنجابی ان کی مادری زبان تھی اس کے علاوہ انہوں نے فرانسیسی اور جرمنی بھی سیکھ رکھی تھی۔ان کا فرانسیسی زبان میں ایک مضمون انیسو بتیس میں پیرس سے شائع ہوا جس میں ہندو مسلم مسئلہ کا پس منظر بیان کیا گیا تھا”my Reminiscences of ch Rehmat Ali ,p 81.۔چوہدری رحمت علی کی کوششوں سے عرب ممالک میں پاکستان سکیم متعارف ہوئی ۔شکیب ارسلان کا رسالہ Lesnations Arabes جنیوا سے شائع ہوتا تھا اور مشرق وسطیٰ کے علاوہ ترقی اور شمالی افریقہ میں بہت مقبول تھا۔چوہدری رحمت علی نے ان سے پاکستان کے بارے میں مفصل مضمون شائع کرنے کی درخواست کی جسے قبول کرتے ہوئے ارسالان نے پاکستان کے بارے میں تفصیلی آرٹیکل اپنے اخبار میں لکھا۔Rehmat Ali A Biography,p.64.۔چوہدری رحمت علی کے ایک ہمعصر پروفیسر جمیل واسطی نے پیرس میں جہاں وہ فرانسیسی زبان سیکھنے کے لئے زیر تعلیم تھے تیونس،الجزائر اور مراکش کے عرب باشندوں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں پاکستان کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔جمیل واسطی کے بقول انہیں بتایا گیا کہ چوہدری رحمت علی کی زیر قیادت یہ تحریک جاری ہے۔عرب باشندوں نے مکمل تعاون کا یقین دلایا اور محبت کا اظہار کیا۔ my Reminiscences of ch Rehmat Ali ,p 112-113۔ڈاکٹر کے کے عزیز ہی کے مطابق انوارلحق بطور ICS پروبیشنر((probationer تربیت کے لئے لند ن جانے سے قبل رحمت علی کے مظریات سے آگاہ تھے ۔انگلستان میں انہیں چوہدری صاحب سے ملنے کا موقع ملا تو دوران ملاقات چوہدری صاحب نے انہیں انگلاستان میں اپنے قیام کے اغراض و مقاصد بتاتے ہوئے کہا کہ”میں اپنے گھر والوں سے دور انگلستان میں اس لئے مقیم ہوں کہ انگلستان میں اعلیٰ تعلیم کے لئے آنے والے طلباء کے دلوں میں پاکستان کے لئے محبت اجاگر کرسکوں کیونکہ یہی طلبہ واپس ہندوستان جا کر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونگے،Rehmat Ali A Biography,p.474 ”۔مشہور مورخ جی الانہ اپنی کتاب( our freedem fighter)کے صفحہ 302 پر انور بار ایٹ لاء کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ ”جو طلبہ اس دور میں انگلستان میں زیر تعلیم تھے اور چوہدری رحمت علی کو جانتے تھے،وہ ان کی لازوال اور بے غرض خدمات کے معترف اور قدردان تھے جو انہوں نے مشکل حالات میں قیام پاکستان کے لئے انجام دیں۔جس طرح قیام پاکستان کے لئے آل انڈیا مسلم لیگ کے راہنماؤں کی سیاسی جدوجہد سے انکار نا ممکن ہے اسی طرح چوہدری رحمت علی کے علمی کام پر پردہ ڈالنا بھی نا ممکنات میں شامل ہے”غرض تحریک پاکستان کی خاطر چوہدری رحمت علی کی خدمات کی تاریخ ضامن ہے ایسا بھی نہیں کہ کسی ایک مشکوک خط سے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ان کی خدمات کا موازنہ کیا جائے اورلفظ پاکستان کے خالق تک انہیں محدودکرکے اس لفظ کے یکے بعد دیگرے” وارث ”تحلیق کرنا ہر گز تاریخ نہیں ہے۔ہماری تاریخ کا المیہ یہ رہا ہے کہ ہم نے ہردور کے سیاسی ایجنڈے کے تحت اپنے ہیرواور دشمن تراشے اور اسی ” نظریے”کو تاریخ سمجھ کر ان کرداروں کو سر پر بیٹھاتے رہے۔ہمیں بدقسمتی سے بعض ایسے مورخ میسر آئے جن کے قلم سے اہل کمال کے خون کی بوندیں ٹپکتی رہیں۔حقائق کا درست تجزیہ کرنے اورآنے والی نسلوں تک سچائی منتقل کرنے کے بجائے تاریخی حقائق کو بری طرح مسخ کر کے اہل دولت اور اقتدار کے قصیدے لکھے جاتے رہے عالمی اور ملکی حالات اور ضرورتوں کے مطابق تشکیل پانے والے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل میں معاون و کارگر قرار پانے والی شخصیات کے پس منظر میں تشکیلی مراحل طے کرتی ہوئی تاریخ کے اجزائے ترکیبی اور خفیہ گوشوں کو تاریخی بحثوں کا حصہ بنا کر بے نقاب کرنے کی بہت کم کوشش کی گئی یوں تاریخ میں مکھی پہ مکھی مارنے کی روایت نے جھوٹ پر مبنی خوشامدی ادب کو فروغ دیا۔ہمارا تاریخ دان ہمیں ماضی کے درست حقائق سے روشناس کروانے کے بجائے علمی بد دیانتی کے زور پر تاریخ سے کوسوں دور لے گیا ،یہی وجہ ہے کہ ”تاریخی راہزنوں”کے ہاتھوں لٹنے کے بعدسچائی جھوٹکی بھینٹ چڑھ گئی اور آج یہ تاریخی قزاق سچائی کے پسماندگان کے غم میں برابر کی شراکت داری کے دعویدار ہیں۔تحقیق کا اصل مقصد تو حقائق کی تلاش اور جستجو ہے مگر ہمارے مختلف اداروں کے اندر اور باہر بیٹھے ”محقیقین”اندھیرے مین ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔حصول دولت،سستی شہرت ،آلہ کاری اور سیاسی ایجنڈوں کی تکمیل کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر کاغذ سیاح کرتے چلے جا رہے ہیں،ہماریمعاشرے میں کتنی ہی ایسی شخصیات ہیں جو گوشہ گمنامی میں پڑی ہیں اور ہمارا محقق اور ادیب ایسی انسان دوست شخصیات کے کارناموں پر پڑی ”تاریخی دھول”جھاڑنے کے بجائے مذہبی،لسانی،نسلی اور سیاسی تعصبات کے خول میں بند رہتے ہوئے اپنی تحریروں کے زریعے ان کی خدمات پر جھوٹ کے پردے ڈالنے میں مصروف ہے۔نتیجے کے طور پر اس تاریخی بدیانتی نے ہمیں معاشرتی سطح پر تقسیم کی راہ پر ڈال دیا ہے اور ایک ہی سماج میں رہتے ہوئے ہم اپنی اپنی تاریخ لکھنے بیٹھ گیے ہیں۔تاریخ کے تناظر میں اپنے آپ کو دیکھنے کے بجائے اپنی تنگ نظری اور کوتاہ فہمی کی عینک سے دوسروں کو دیکھنا اور نیرنگی سماج کا اندازہ لگانا شروع کر رکھا ہے اور پھر نتیجہ یہ نکلا کہ ہم تقسیم در تقسیم ہوتے جا رہے ہیں،یہ تقسیم اتنی گہریہو چکی ہے کہآج مجھے جو سیاہ نظر آتا ہے وہ دوسرے کو سفید لگتا ہے یوں ہم تاریخی زبان میں گرے ایریا سے نکل کر حقائق کو یا تو سیاح پینٹ کر رہے ہیں یا سفید پینٹ کرنے میں لگے ہوئے ہیں یہ رویہ ہمیں سچائی کے قریب بھی بھٹکنے نہیں دیتا،سچائی سے دوری نے ہمارے لئے فطری سچائیوں کو بھی مشکوک بنا کر رکھ دیا ہے۔مطالعہ پاکستان سمیت ہماری تاریخ میں نظریہ ضرورت کے تحت وہ ڈنڈی ماری گئی ہے کہ ڈاکٹر مبارک علی جیسا دانشور اور مورخ یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ ”نظریاتی ریاست کی وجہ سے پاکستان میں صحیح تاریخ لکھنے کی گنجائیش موجود نہیں ہے۔اگر چہ تاریخ کو مسخ کرنے کا عمل پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ بے ایمانی جاری ہے مگر ہمارے ہاں انتہائی بھدے انداز میں یہ کھیل جاری رکھا ہوا ہے۔یہاں تاریخ کا عمل روکا بھی جارہا ہے اور ساتھ ساتھ تاریخ کو مسخ کرنے کا عمل ریاستی سطح پر بھی جاری ہے جس کی ایک نہیں سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔مشہور مورخ ڈاکٹر کے کے عزیز(خورشید کمال عزیز)نے ہماری نصابی اور غیر نصابی تاریخی بدیانتیوں کو تاریخ کے قتل سے تشبیہ دیتے ہوئے اپنی انگریزی کتاب مرڈر آف ہسٹری((murder of historyمیں ا یسی سینکڑوں تاریخی اغلاط کی نشاندہی کی ہے اور ان میں پہلی کلاس سے لیکر گریجویشن لیول کی مطالعہ پاکستانسمیت سوشل سٹڈیز کی 66کتابیں شامل ہیں۔مرڈر آف ہسٹری کے مطالعہ سے کے اندازہ ہوتا ہے کہایک عرصہ سے قوم کے نونہالوں کو تاریخ کے نام پرجھوٹ پڑھایا جا رہا ہے ۔نو نومبر 2015 کو یوم علامہ محمد اقبال کے موقع پر معروف تجزیہ کار نجم سیٹھی نے جیو ٹی وی پر اپنے پروگرام” آپس کی بات” میں ساتھی میزبان منیب فاروق سے بات کرتے ہوئے تصور پاکستان کے نظریہ کا بانی چوہدری رحمت علی قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ علامہ اقبال کو نظریہ پاکستان کا بانی قرار دینا تاریخی طور پر غلط ہے ،انہوں نے خطبہ الہ آباد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں علامہ اقبال نے نظریہ پاکستان کی بات نہیں کی بلکہ ہندوستان کے اندر مسلمانوں کے لئے ریاستوں کی بات کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا تاریخ کی نظریاتی ریویژن کرنے کے لئے کیا گیا یوں ایسا کر کے بہت سوں کی اہمیت کو بڑھایا اور بہت سوں کی اہمیت کو گھٹا کر پیش کیا گیا ہے ۔کراچی کے ایک محقق سہیل احمد صدیقی نے چوہدری رحمت علی کے حوالے سے بعض تحریروں کو تاریخ سے مذاق قرار دیتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا ہے ۔ سہیل صدیقی صاحب سے عرض ہے حیرت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں،جہاں نظریہ ضرورت کے تحت بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تقریر کے الفاظ تک بدل دیے جائیں وہاں اگر کوئی” مورخ ”چوہدری رحمت علی کی خدمات کا ایک خط کے” لفافہ” سے موازنہ کرے تو یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ چوہدری رحمت علی کو لفظ پاکستان کے خالق تک محددود کرنے کے بجائے ان کی سیاسی بصیرت اورعلمی خدمات کو تصور پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے۔۔

Page 3 of 8