Gujjar's Global Gateway

Gujjar GalaxyCategory Archives

Nosheen Javed Amjad Gujjar Appointed As New FBR Chairperson

چوہدری رحمت علی۔۔ایک عظیم مفکر تحریر شیر افصل گُٗجر صاحب

تاریخ انسانی کے ارتقائی منازل کامطالعہ کرنے سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ بعض شخصیتوں نے اپنی خداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے وسعت فکر کی بنیاد پر ایسے کارنامے سر انجام دیے کہ جنہوں نے آنے والی تاریخ کا رخ بدل ڈالا اور ایسی شخصیات اور سماج کے لئے انکی علمی خدمات کو تاریخ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے حافظہ میں محفوظ کر لیا۔برصغیر کی تاریخ میں بھی ایسا ہی ایک روشن نام ہے جس کی فکر و فراست نے ہندوستان کے سیاسی طور پر منتشر مسلمانوں کو ان کی منزل سے روشناس کروایا اور انہیں ایک الگ وطن کی جدوجہد کے پر آمادہ کرنے کے لئے مدلل علمی کام کیا،دنیااس شخصیت کو چوہدری رحمت علی کے نام سے جانتی ہے۔یہ عظیم مفکر سولہ نومبر7 189کو ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔تاریخ تحریک پاکستان میں چوہدری رحمت علی کا نام اس بنا پر سب پر فوقیت کا حامل ہے کہ انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو” ہندوستانیت”کے چنگل سے نجات دلانے کے لئے (now or never )کے نام سے ایک ایسی دستاویز جاری کی جس میں ہندوستان کے مسلمانوں کے خوابوں کی مملکت کا نام ”پاکستان” تجویز کیا اور مسلمانوں کو الگ قوم کے تصور سے روشناس کروایا،اس دستاویز میں پہلی بار ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ آزاد اور خود مختار ملک کے قیام کے مطالبہ کو مدلل انداز میں پیش کرتے ہوئے دلائل سے یہ ثابت کیا کہ انڈیا کے مسلمان اپنے مخصوص مذہب،ثقافت،تاریخ،خانگی زندگی کے معاملات جیسے شادی بیاہ،وراثت،اپنی روایات،معاشی نظام،اپنے خاص ملی مقاصد ،قومی رسومات،لباس اور خوراک وغیرہ میں ہندوؤں سے مختلف ہیں،جب وہ ایک دوسرے سے اتنے اختلاف رکھتے ہیں تو وہ آپس میں ایک قوم کیسے کہلا سکتے ہیں،انہیں متحدہ قومیت قرار دینا اوراکھٹے رہنے پر مجبور کرنا غلط ہو گا۔اس انقلاب آفریں دستاویز کے اندرہندوستان کے مسلمانوں کے لئے ایک واضع منزل کے نشانات موجود تھے۔سیاسیات کے طالبعلم اس بات سے با خوبی آگاہ ہیں کہ now or never کی اشاعت کے بعدہندوستان کے مسلمانوں میں ایک انقلاب پیدا ہوا اور صرف سات سال کے عرصہ میں مسلمانان ہند میں یہ نظریہ اس قدر مقبول ہوا کہ انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد کے لئے اپنا لیا۔24 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ سیشن میں مسلمانوں کی آزادی کے حصول کے لئے ”قرارداد لاہور”پاس ہوئی تو اس میں پاکستان کا نام تک نہیں تھا مگر ہندو پریس نے اسے” چوہدری رحمت علی کے پاکستان کی قرارداد”قرار دیا۔اس تاریخی قرارداد کے حق میں بانی پاکستان جناب قائد اعظم محمد علی جناح نے جو تقریر فرمائی اس کے بارے میں عبدالسلام خورشید نے اپنی کتاب (history idea of pakstan)میں تحریر کیا ہے کہ ”ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جناب قائد نے تقریر کرنے سے پہلے(now or never )کو پڑھا کیونکہ آپ نے وہی دلائل اور سیاسی تلمیحات استعمال کیں جو چوہدری رحمت علی نے (now or never) میں کی تھیں۔اگر یہ کہا جائے کہ now or never نے ہندوستان کا جٖغرافیہ تبدیل کیا تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہو گا۔یہ حقیقت ہے کہ اس تاریخ ساز دستاویز نے دنیا کے نقشہ پر مسلمانوں کی ایک مملکت کا اضافہ کیا۔یہ بے حد اہمیت اور سیاسی نوعیت کی حامل تاریخی دستاویز آٹھ صفحات پر مشتمل تھی جس میں انہوں نے انڈیا کی تاریخ کے ایک پر آشوب دور کے ہندو مسلم مسائل کے بارے میں اپنے قلبی،تاثرات،ذہنی کیفیات اور مذہبی و سیاسی نظریات پر روشنی ڈالی ہے۔رحمت علی نے اپنے مخصوص اسلوب نگارش سے کام لیتے ہوئے ٹھوس حقائق اور مظبوط دلائل کی بنیاد پر ان اہم سیاسی مذہبی،ثقافتی اور معاشی امور کا بنظر غائر جائزہ لیا ہے اور ان کا حل بھی پیش کیا ہے۔اس دستاویز میں بھرپور دلائل کے ساتھ پاکستان کے قیام کا جواز پیش کیا گیا تھا اس کے آغاز میں ہندوستان کے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے چوہدری رحمت علی فرماتے ہیں”ہندوستان کی تاریخ اس نازک موڑ پر جبکہ ہندوستانی رہنماء اس ملک کے لئے وفاقی آئین کی تیاریوں میں مصروف ہیں،ہم اپنے مشترکہ ورثے اور تیس ملین مسلمانوں کے نام پر جو پاکستان (پنجاب ،افغانیہ (خیبر پختونخوا)کشمیر ،سندھ اور بلوچستان ) میں رہ رہے ہیں،آپ سے تعاون کی اپیل کرتے ہیں۔”یہ کہ گول میز کانفرنسوں کے مسلمان شرکاء نے وفاق ہند کی تجویز تسلیم کر کے مسلمان قوم کے ساتھ شرمناک نا انصافی کی ہے،وفاق ہندوستان کی قبولیت مسلمانوں کے لئے موت کے پروانے پر دستخط کے مترادف ہے،ہندوستان اپنی موجودہ شکل میں نہ ہی ایک ملک ہے اور نہ ہی اس میں ایک قوم آباد ہے بلکہ برطانوی حکومت کے تحت اسے پہلی مرتبہ ایک ملک کی شکل دی گئی۔ہندوستان کے پانچ شمال مغربی صوبوں کی کل چالیس ملین آبادی میں سے تیس ملین ہم مسلمان ہیں،ہمارا دین،ہماری تہذیب،تاریخ رسم رواج،نظام معیشت،قوانین وراثت اور شادی بیاہ کی رسومات ہندوستان میں رہنے والی دیگر اقوام سے مختلف ہیں، ہم نہ ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکتے ہیں اور نہ آپس میں شادی بیاہ کر سکتے ہیں۔اگر ہم مسلمان وفاق ہندوستان کے جھانسے میں آگیے تو ایک حقیر سی اقلیت میں تبدیل ہو کر رہ جائیں گے اور یہ ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کے خاتمے کے مترادف ہو گا”۔چوہدری رحمت علی اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے لکھتے ہیں”اندازہ کیجیے ہم تیس ملین مسلمان دنیا کی آبادی کا دسواں حصہ ہیں،پانچ صوبوں پرمشتمل پاکستان کا رقبہ اٹلی سے چار گنا،جرمنی سے تین گنا اور فرانس سے دو گنا ہے ،اس کی آبادی کنیڈا سے سات گنا،سپین سے دو گنا،جبکہ اٹلی اور فرانس کے برابر ہے۔یہ وہ ناقابل تردید حقائق ہیں جن کی بنیاد پر ہم پاکستانی کہ سکتے ہیں کہ ہم علیحدہ قومیت رکھتے ہیں اور ہم یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ہندوستان سے علیحدہ ایک مسلم وفاق کے قیام کی تجویز منظور کر کے ہماری الگ قومی حیثیت تسلیم کی جائے”۔چوہدری رحمت علی خطبہ الہ آباد کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ”ہمارا مطالبہ بنیادی طور پر اس تجویز سے مختلف ہے جو سر علامہ محمد اقبال نے ان صوبوں کو ایک ایسی ریاست میں شامل کرنے کے بارے پیش کی تھی جو وفاق ہند کا حصہ ہو۔ہمارا منصوبہ اس کے بالکل برعکس ہے،ہم ان علاقوں پرمشتمل ایک علیحدہ مسلم فیڈریشن کا قیام چاہتے ہیں کیونکہ ہندوستان میں اس وقت تک نہ تو امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی مسلمان اپنی قسمت کے آپ مالک بن سکتے ہیں جب تک ہندو وفاق کے چکر میں غالب رہے”چوہدری رحمت علی اس دستاویز میں انگریز حکمرانوں اور ہندوستانی رہنماؤں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ”کیا ہمیں انگریز حکمران،ہندو اور مسلم رہنماؤں سے ،جو وفاق کے قیام کی حمایت کر رہے ہیں یہ پوچھنے کی اجازت ہے کہ جب روس کو نکال کر یورپ میں اتنے ہی رقبے پر ایک تہذیب،ایک ثقافت اور ایک معاشی نظام رکھنے والی چھبیس قومیں آباد ہیں تو ہندوستان میں دو علیحدہ مذاہب رکھنے والی مسلم اور غیر مسلم اقوام امن اور خوشحالی سے کیوں نہیں رہ سکتیں لیکن افسوس کہ ہمارے رہنماہ ہمارے مطالبہ کی حمایت نہیں کر رہے”ْ۔”یہ کہ ہم اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک المیہ سے دوچار ہیں،یہ ایک گروہ کی پستی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ انتہائی اہم مسئلہ ہے جس سے نہ صرف اسلام متاثر ہو گا بلکہ لاکھوں مسلمانوں کی تاریخ بھی جو کل تک سارے ہندوستان کے مالک تھے۔اگر ہم اس مرحلے پر بھی وفاق ہند میں شمولیت سے گریز کریں تو روشن مستقبل ہمارا منتظر ہے۔معاملہ ”اب یا کبھی نہیں”کا ہے۔ہم یا تو زندہ رہیں گے یا ہمیشہ کے لئے مٹ جائیں گے،کیا ہمارے متعلق یہ کہا جائے گا کہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے اپنے عظیم ورثہ کو تباہ کر ڈالا”۔اس دستاویز کا تجزیہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ چوہدری رحمت علی نے بھر پور دلائل کے ساتھ ایک جامع منصوبہ پیش کیا اوردو قومی نظریہ کو اجاگر کیا اور جو اعتراضات اس سکیم کے بارے میں اٹھائے جا سکتے تھے ان کا پیشگی جواب ایک مدلل انداز میں دیا ۔چوہدری رحمت علی نے ہر لحاظ سے پاکستان کے قیام کا جواز ثابت کیا اس سے پہلے پیش کی گئی کوئی تجویز اس قدر واضع،دو ٹوک اور مدلل نہ تھی اور سکیم پیش کرنے کے ساتھ ہی کسی ملک کا نام تجویز کرنے کی شاید یہ واحد مثال تھی۔چوہدری رحمت علی نے زمانہ طالبعلمی میں اسلامیہ کالج لاہور میں بزم شبلی کی بنیاد رکھی تو افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا،” ہندوستان کا شمال مغربی علاقہ ،مسلم اکثریتی علاقہ ہے،ہم اسے ایک اسلامی ریاست بنائیں گے لیکن یہ اسی صورت ممکن ہو سکتا ہے کہ ہم ہندوستانی قومیت سے قطع تعلق کر لیں،اسی میں ہماری اور ہمارے دین،اسلام کی بہتری ہے یہ انیسو پندرہ کی بات ہے۔pakstan father land of the pak nation صفحہ 123 ۔چوہدریہ رحمت علی کی بزم شبلی سے خطاب کی توثیق حکیم آفتاب احمد قریشی نے اپنے والد محمد حسن قریشی کے حوالے سے کی ہے ،جو چوہدری رحمت علی کے ہم جماعت تھے انہوں نے ”کاروان شوق ” ادارہ تحقیقات پاکستان ،جامعہ پنجاب لاہور۔صفحہ نمبر 44 پر تحریر کیا ہے کہ ”چوہدری رحمت علی ،مولانا شبلی سے بے حد متاثر تھے ،چوہدری رحمت علی نے دیگر دوستوں کے ہمراہ لاہور میں بزم شبلی قائم کی تھی جس کے اجلاس میں انہوں نے ،1915 میں تقسیم ہندوستان کا انقلاب آفریں نظریہ پیش کیا،یہ گویا مطالبہء پاکستان کی ابتداء تھی ‘ ‘ انیسو 33 میں اس دستاویزات کی اشاعت کے بعد چوہدری رحمت علی نے بڑی دانشمندی سے اسے ایسے حلقوں تک پہنچایا جن کا یا تو سرکاری امور میں دخل تھا یا رائے عامہ مرتب کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے تھے اس فیصلہ نے بعد ازاں مثبت کردار ادا کیا،برطانوی پارلیمنٹ نے ہندوستان کے لئے وفاقی نوعیت کا آئین تیار کرنے کے لئے اکے جائنٹ سلیکٹ کمیٹی تشکیل دے رکھی تھی۔ڈاکٹر کے کے عزیز کے مطابق”یہ پمفلٹ جائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے انگریز اور ہندوستانی اراکین کو بھی بھیجا گیا جو ہندوستان کے لئے وفاقی آئین کی تیاری کے سلسلے میں مذاکرات میں شریک تھے۔یہ کاپیاں انڈیا آفس لائبریری میں محفوظ ہیں” Rehmat Ali A Biography,p.86۔اس سلسلے میں جائنٹ سلیکٹ کمیٹی کا پہلا اجلاس یکم اگست انیسو تینتیس کو منعقد ہوا اس اجلاس کی کاروائی کا اندازہ بھی لگا لیں،سوال نمبر 9598”)شرکاء میں سے کوئی یہ بتانا پسند کرے گا کہ کیا کوئی ایسا منصوبہ ہے جس کا مقصد چند صوبوں پر مشتمل پاکستان کے نام سے علیحدہ فیڈریشن کا قیام ہو؟”۔عبداﷲ یوسف علی:”جہاں تک مجھے معلوم ہے یہ ایک طالبعلم کی سکیم ہے کسی زمہ دار شخص نے یہ تجویز پیش نہیں کی ہے”۔sir Reginaldـ: میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں”کیا آپ میں سے کوئی اس سکیم کی تفصیلات سے آگاہ ہے جسے پاکستان کی سکیم کہا جا رہا ہے؟”سر ظفر اﷲ خان ہم پہلے ہی اس کا جواب دے چکے ہیں کہ یہ ایک طالب علم کی سکیم ہے اور اس میں کچھ نہیں ہے”۔سوال نمبر 9599)” Mr Isaac Footپاکستان کیا ہے؟”سر ظفر اﷲ خانـ:”جہاں تک ہم سمجھتے ہیں یہ ایک تخیلاتی اور نا قابل عمل تجویز ہے اور اس کا مقصد چند صوبوں پر مشتمل ایک فیڈریشن کا قیام ہے”۔ sir Reginaldـ: سوال نمبر9600)”مجھے پاکستان کی فیڈریشن کے بارے میں معلومات دستیاب ہوئی ہیں”ڈاکٹر خلیفہ شجاع الدینـ:”یہ کہ دینا ہی کافی ہو گا کہ تاحال کسی زمہ دار نمائندہ شخص یا تنظیم نے اس تجویز کی حمایت نہیں کی ہے”۔p.300-301.،our freedem fighter جی الانہ ۔جائنٹ سلیکٹ کمیٹی کمیٹی کے تیرہ نومبر انیسو تینتیس کو منعقد ہونے والے اجلاس کی کاروئی میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال رہی۔اس اجلاس کی کاروائی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلمان رہنماء پاکستان کی سکیم سے وابستہ ہونا تو دور کی بات اس سے کسی قسم کے تعلق کے بھی روادار نہیں تھے اور ابتدائی عرصہ میں جس وقت اس تجویز کو زیادہ پزیرائی نہیں مل رہی تھی اس کی تحلیق کا زمہ دار ایک طالبعلم کو قرار دیا جاتا رہا اور سکیم کو تخیلاتی اور نا قابل عمل گردانہ گیا۔چوہدری رحمت علی پاکستان کے بارے میں لٹریچر مسلسل برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین کو بھیجتے رہے اوراس کے علاوہ پاکستان کے بارے میں اخبارات میں مضامین اور خطوط کی اشاعت کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا جس کی وجہ سے پاکستان سکیم بڑے پیمانے پر متعارف ہوئی۔چوہدری رحمت علی نے 8 جولائی انیسو پینتیس کو ایک خط برطانوی پارلیمنٹ کے نام تحریر کیا جس میں ہندوستان میں وفاقی آئین کا نفاذ نہ کرنے کی اپیل کی گئی تھی یہ خط اس دوران لکھا گیا جب گورنمنٹ آف انڈیا بل ہاؤس آف لارڈز میں زیر بحث تھا۔چوہدری رحمت علی ہاؤس آف لارڈز کے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں ،” کیا میں پاکستان کے عوام کی طرف سے اس نازک مرحلہ پر جب کہ پارلیمنٹ گورنمنٹ آف انڈیا بل کو آخری شکل دے رہی ہے ، پاکستان کے زبردستی وفاق ہند میں شامل کیے جانے کے خلاف آپ سے ہمدردی اور تعاون کی اپیل کر سکتا ہوں۔ گورنمنٹ آف انڈیا بل نے پاکستان کی قومی زندگی کے خلاف خطرات پیدا کر دیے ہیں،مجھے امید ہے کہ آپ ہندوستان سے الگ ہماری قومی بقاء کے مطالبے ،پاکستان کی حمایت کریں گے جو کہ انصاف کے اصولوں کے مطابق ہے ۔میرے لئے یہ لازم ہے کہ میں برطانوی عوام اور پارلیمنٹ کے اراکین کے سامنے انڈو پاکستان مسئلہ کی بنیادی اہمیت بیان کروں اور ہندوستان اور پاکستان میں رہنے والی قوتوں کے بنیادی فرق سے آپ کو آگاہ کروں ۔جب تک اس بنیادی فرق کو نہ سمجھا جائے سماجی،تاریخی اور مذہبی بنیادوں پر ہندوستان سے علیحدہ وفاق پاکستان کے قیام کے ہمارے مطالبے کی اہمیت کا احساس نہیں ہو سکتا۔پاکستان کے لوگ نہ تو ہندوستانی شہری ہیں اور نہ ہی ہندوستان کی زمین پر آباد۔پاکستان ہمارا ملک ہے دونوں قوموں کی الگ حیثیت ہے اور دونوں میں کوئی چیز مشترک نہیں ہمارے طرز زندگی کے بنیادی حصول ان سے مختلف ہیں جن کے تحت ہندو زندگی گزار رہے ہیں ۔قدرت نے پاکستان کو جغرافیائی پہچان دے رکھی ہے،دریائے جمنا ان دونوں ملکوں کے درمیان سرحد کی حیثیت سے بہہ رہا ہے کوئی طاقت ہمیں وفاق ہند کو تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی کیونکہ ہمیں احساس ہے کہ اس کی قبولیت خود کشی کے مترادف ہے۔اگر چہ یہ جدو جہد طویل اور تھکا دینے والی ہو گی اور ہمیں بے پناہ مشکلات کا سامنا بھی ہو گا لیکن ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے،”چوہدری رحمت علی اور تحریک پاکستان از عبدالحمید صفحہ 86/87 ۔ڈاکٹر کے کے عزیز کے مطابق 8مئی1935 ء میں منعقدہ ہاؤس آف کامن کے اجلاس میں پہلی مرتبہ پاکستان کا نام سننے میں آیا ۔ہاؤس کے ایک نامور رکنMr.Vyvyan Adams نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ”برطانوی پارلیمنٹ کی جائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے سامنے حیران کن شہادتیں پیش کی گئی ہیں۔جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب،شمال مغربی سرحدی صوبے،سندھ،کشمیر اور بلوچستان پر مشتمل ایک علیحدہ وفاق کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔اس طرح کی سوچ ہماری پالیسی کے خلاف ہے اور مسلمانوں سے وابستہ ہماری توقعات کے برعکس بھی”ہاؤس آف کامن میں پاکستان پر بحث قابل ذکر بات تھی اور اس حقیقت کی عکاس بھی کہ حکومت اس ساری صورتحال پر پریشان تھیRehmat Ali A Biography,p.133۔مسلمان رہنماؤں کا رد عمل بھی فطری بات تھی ۔اس نظریہ کی اشاعت سے پہلے مسلمان رہنماہ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے انگریز حکمرانوں کے سامنے مختلف مطالبات پیش کر چکے تھے جن میں وفاق کے قیام کی صورت مرکز میں ایک تہائی نمائندگی کا مطالبہ نمایاں تھا لیکن اس دستاویز کے زریعے ایک بالکل نیا مطالبہ سامنے آیا جو مسلمان رہنماؤں کے موقف سے ہم آہنگ نہیں تھا اس لئے ان کی طرف سے اس کی حمایت کا امکان نہیں تھا۔چوہدری ر حمت علی چونکہ کسی بڑی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں تھے اس لئے ان کی تجویز کو ابتدائی دور میں زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔اس سلسلے میں چوہدری رحمت علی کی قائد اعظم سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے Larry Collinsاور Dominique Lapierre لکھتے ہیں کہ 1933” میں آل انڈیا مسلم لیگ کے رہنماہ محمد علی جناح کو اپنے منصوبہ سے آگاہ کرنے کے لئے چوہدری رحمت علی نے لندن کے Wallroff ہوٹل میں ان کے اعزاز میں کھانے کا اہتمام کیا اور ان سے پاکستان کی سکیم کے بارے میں تفصیل سے بات چیت کی ۔لیکن محمد علی جناح نے اس تجویز کو ناقابل عمل قرار دیا ”۔ midnight london1975)p.101. Freedom at ( ۔اسی کتاب کے صفحہ 34 پہ لکھاہے کہ ”چوہدری رحمت علی کے پاس نئی مجوزہ اسلامی ریاست کے لئے نام بھی تھاجو ان صوبوں کے ناموں کے پہلے حروف سے اخذ کیا گیا تھا جو اس میں شامل ہیں اور یہ نام پاکستان تھا یعنی پاک لوگوں کی سرزمین” ۔تحریک پاکستان کے ایک سرگرم رکن چوہدری خلیق لزمان کو چوہدری رحمت علی نے چاہے پر مدعو کیا اور اور پاکستان کے بارے میں اپنا منصوبہ ان کے سامنے پیش کیا۔اس بارے میں چوہدری خلیق الزمان کا رد عمل ان کے اپنے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں ـ:”میں نے چوہدری رحمت علی کو بتایا کہ میں ان کے نظریے کا حامی ہوں لیکن ہندوستان کی تقسیم کے لئے لفظ پاکستان استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہوں کیونکہ اس سے ایک طرف تو ہندو برہم ہوں گے اور دوسری طرف انگریز حکمرانوں کے شکوک اور شبہات میں اضافہ ہو گا”۔pathway to pakistan,(lhr1961),p.200۔ڈاکٹر کے کے عزیز کے مطابق ستمبر 1934 میں ایک علاقائی اخبار Directory south Devon journal Torquay کے ایڈیٹر نے لندن میں چوہدری رحمت علی سے دو مرتبہ ملاقات کی اور ان کے دلائل سے متاثر ہو کر انڈین فیڈریشن کے بارے میں ایک مفصل مضمون تحریر کیا جو رحمت علی کے نظریات کی ترجمانی کرتا تھا اس مضمون کا عنوان تھا،indian white paper proposals muslim oposition special interview with leader of new pakistan movement.”۔یہ بارہ ستمبر انیسو چونتیس کے شمارے میں شائع ہوا۔اسی طرح ڈیلی ٹیلی گراف نے نو ستمبر 1935 کی اشاعت میں پاکستان کے بارے میں ایک مضمون Annonymous contributor کے عنوان سے شائع کیا جس میں تحریر تھا کہ پاکستان نیشنل موومنٹ کے بارے میں کچھ علم نہ تھا لیکن حال ہی میں مجھے چند خوبصورت پمفلٹ پاکستان نیشنل موومنٹ کے بانی صدر چوہدری رحمت علی کی طرف سے موصول ہوئے ہیں۔با شعور پاکستانی وفاق ہندوستان کے خلاف ہیں اور وہ مسلمانوں کے اکثریتی صوبوں پر مشتمل علیحدہ ملک پاکستان کے قیام کے حامی ہیں۔اس مضمون میں لفظ پاکستان کی تشریح بھی کی گئی تھی اور پاکستان کا نقشہ بھی شائع کیا گیا تھا۔ اسی طرح irish independent نے اکیس اکتوبر انیسو پینتیس ،جریدے and the Great Britian The East نے انیس نومبر انیسو چھتیس کو مضامین اورMorning Post چودہ جون انیسو سینتیس کو پاکستان سکیم کے حق میں ایک خط شائع کیا Rehmat Ali A Biography,p.180۔ڈاکٹر خورشید کمال کے مطابق جرمنی وہ واحد ملک تھا جہاں چوہدری صاحب کے پمفلٹ now or never کا مقامی زبان میں ترجمہ کر کے تقسیم کیا گیا۔چوہدری رحمت علی نے اپنے منصوبے کی ترویج کے لئے 1937 میں جرمنی کا دورہ کیا اور مختلف شہروں میں جا کر اساتذہ اور طلباء سے ملاقاتیں کیں اور انہیں اپنے منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ان میں سے بعض طلباء نے متاثر ہوکر مقامی اخبارات میں مضامین بھی تحریر کیے۔حکمران نازی پارٹی کے اخبارVolkischer Beobatchter بارہ دسمبر انیسو سینتیس کی اشاعت میں پاکستان نیشنل موومنٹ کے اغراض و مقاصد کے مضمون بعنوان ( Aims and Significance of the pakistan National Movement in India)شائع کیا۔جس میں کہا گیا کہ یہ نوجوان طلباء کی تحریک ہے،جس کے زیادہ تر حامی یورپ اور انگلستان میں زیر تعلیم ہیں اور بعض جرمنی میں بھی ہیں یہ نوجوان ان کی تحریک کا سرمایہ ہیں۔ Rehmat Ali A Biography,p.183۔پروفیسر جمیل واسطی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے”چوہدری رحمت علی کو انگریزی اور اردو پر عبور حاصل تھا،پنجابی ان کی مادری زبان تھی اس کے علاوہ انہوں نے فرانسیسی اور جرمنی بھی سیکھ رکھی تھی۔ان کا فرانسیسی زبان میں ایک مضمون انیسو بتیس میں پیرس سے شائع ہوا جس میں ہندو مسلم مسئلہ کا پس منظر بیان کیا گیا تھا”my Reminiscences of ch Rehmat Ali ,p 81.۔چوہدری رحمت علی کی کوششوں سے عرب ممالک میں پاکستان سکیم متعارف ہوئی ۔شکیب ارسلان کا رسالہ Lesnations Arabes جنیوا سے شائع ہوتا تھا اور مشرق وسطیٰ کے علاوہ ترقی اور شمالی افریقہ میں بہت مقبول تھا۔چوہدری رحمت علی نے ان سے پاکستان کے بارے میں مفصل مضمون شائع کرنے کی درخواست کی جسے قبول کرتے ہوئے ارسالان نے پاکستان کے بارے میں تفصیلی آرٹیکل اپنے اخبار میں لکھا۔Rehmat Ali A Biography,p.64.۔چوہدری رحمت علی کے ایک ہمعصر پروفیسر جمیل واسطی نے پیرس میں جہاں وہ فرانسیسی زبان سیکھنے کے لئے زیر تعلیم تھے تیونس،الجزائر اور مراکش کے عرب باشندوں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں پاکستان کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔جمیل واسطی کے بقول انہیں بتایا گیا کہ چوہدری رحمت علی کی زیر قیادت یہ تحریک جاری ہے۔عرب باشندوں نے مکمل تعاون کا یقین دلایا اور محبت کا اظہار کیا۔ my Reminiscences of ch Rehmat Ali ,p 112-113۔ڈاکٹر کے کے عزیز ہی کے مطابق انوارلحق بطور ICS پروبیشنر((probationer تربیت کے لئے لند ن جانے سے قبل رحمت علی کے مظریات سے آگاہ تھے ۔انگلستان میں انہیں چوہدری صاحب سے ملنے کا موقع ملا تو دوران ملاقات چوہدری صاحب نے انہیں انگلاستان میں اپنے قیام کے اغراض و مقاصد بتاتے ہوئے کہا کہ”میں اپنے گھر والوں سے دور انگلستان میں اس لئے مقیم ہوں کہ انگلستان میں اعلیٰ تعلیم کے لئے آنے والے طلباء کے دلوں میں پاکستان کے لئے محبت اجاگر کرسکوں کیونکہ یہی طلبہ واپس ہندوستان جا کر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونگے،Rehmat Ali A Biography,p.474 ”۔مشہور مورخ جی الانہ اپنی کتاب( our freedem fighter)کے صفحہ 302 پر انور بار ایٹ لاء کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ ”جو طلبہ اس دور میں انگلستان میں زیر تعلیم تھے اور چوہدری رحمت علی کو جانتے تھے،وہ ان کی لازوال اور بے غرض خدمات کے معترف اور قدردان تھے جو انہوں نے مشکل حالات میں قیام پاکستان کے لئے انجام دیں۔جس طرح قیام پاکستان کے لئے آل انڈیا مسلم لیگ کے راہنماؤں کی سیاسی جدوجہد سے انکار نا ممکن ہے اسی طرح چوہدری رحمت علی کے علمی کام پر پردہ ڈالنا بھی نا ممکنات میں شامل ہے”غرض تحریک پاکستان کی خاطر چوہدری رحمت علی کی خدمات کی تاریخ ضامن ہے ایسا بھی نہیں کہ کسی ایک مشکوک خط سے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ان کی خدمات کا موازنہ کیا جائے اورلفظ پاکستان کے خالق تک انہیں محدودکرکے اس لفظ کے یکے بعد دیگرے” وارث ”تحلیق کرنا ہر گز تاریخ نہیں ہے۔ہماری تاریخ کا المیہ یہ رہا ہے کہ ہم نے ہردور کے سیاسی ایجنڈے کے تحت اپنے ہیرواور دشمن تراشے اور اسی ” نظریے”کو تاریخ سمجھ کر ان کرداروں کو سر پر بیٹھاتے رہے۔ہمیں بدقسمتی سے بعض ایسے مورخ میسر آئے جن کے قلم سے اہل کمال کے خون کی بوندیں ٹپکتی رہیں۔حقائق کا درست تجزیہ کرنے اورآنے والی نسلوں تک سچائی منتقل کرنے کے بجائے تاریخی حقائق کو بری طرح مسخ کر کے اہل دولت اور اقتدار کے قصیدے لکھے جاتے رہے عالمی اور ملکی حالات اور ضرورتوں کے مطابق تشکیل پانے والے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل میں معاون و کارگر قرار پانے والی شخصیات کے پس منظر میں تشکیلی مراحل طے کرتی ہوئی تاریخ کے اجزائے ترکیبی اور خفیہ گوشوں کو تاریخی بحثوں کا حصہ بنا کر بے نقاب کرنے کی بہت کم کوشش کی گئی یوں تاریخ میں مکھی پہ مکھی مارنے کی روایت نے جھوٹ پر مبنی خوشامدی ادب کو فروغ دیا۔ہمارا تاریخ دان ہمیں ماضی کے درست حقائق سے روشناس کروانے کے بجائے علمی بد دیانتی کے زور پر تاریخ سے کوسوں دور لے گیا ،یہی وجہ ہے کہ ”تاریخی راہزنوں”کے ہاتھوں لٹنے کے بعدسچائی جھوٹکی بھینٹ چڑھ گئی اور آج یہ تاریخی قزاق سچائی کے پسماندگان کے غم میں برابر کی شراکت داری کے دعویدار ہیں۔تحقیق کا اصل مقصد تو حقائق کی تلاش اور جستجو ہے مگر ہمارے مختلف اداروں کے اندر اور باہر بیٹھے ”محقیقین”اندھیرے مین ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔حصول دولت،سستی شہرت ،آلہ کاری اور سیاسی ایجنڈوں کی تکمیل کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر کاغذ سیاح کرتے چلے جا رہے ہیں،ہماریمعاشرے میں کتنی ہی ایسی شخصیات ہیں جو گوشہ گمنامی میں پڑی ہیں اور ہمارا محقق اور ادیب ایسی انسان دوست شخصیات کے کارناموں پر پڑی ”تاریخی دھول”جھاڑنے کے بجائے مذہبی،لسانی،نسلی اور سیاسی تعصبات کے خول میں بند رہتے ہوئے اپنی تحریروں کے زریعے ان کی خدمات پر جھوٹ کے پردے ڈالنے میں مصروف ہے۔نتیجے کے طور پر اس تاریخی بدیانتی نے ہمیں معاشرتی سطح پر تقسیم کی راہ پر ڈال دیا ہے اور ایک ہی سماج میں رہتے ہوئے ہم اپنی اپنی تاریخ لکھنے بیٹھ گیے ہیں۔تاریخ کے تناظر میں اپنے آپ کو دیکھنے کے بجائے اپنی تنگ نظری اور کوتاہ فہمی کی عینک سے دوسروں کو دیکھنا اور نیرنگی سماج کا اندازہ لگانا شروع کر رکھا ہے اور پھر نتیجہ یہ نکلا کہ ہم تقسیم در تقسیم ہوتے جا رہے ہیں،یہ تقسیم اتنی گہریہو چکی ہے کہآج مجھے جو سیاہ نظر آتا ہے وہ دوسرے کو سفید لگتا ہے یوں ہم تاریخی زبان میں گرے ایریا سے نکل کر حقائق کو یا تو سیاح پینٹ کر رہے ہیں یا سفید پینٹ کرنے میں لگے ہوئے ہیں یہ رویہ ہمیں سچائی کے قریب بھی بھٹکنے نہیں دیتا،سچائی سے دوری نے ہمارے لئے فطری سچائیوں کو بھی مشکوک بنا کر رکھ دیا ہے۔مطالعہ پاکستان سمیت ہماری تاریخ میں نظریہ ضرورت کے تحت وہ ڈنڈی ماری گئی ہے کہ ڈاکٹر مبارک علی جیسا دانشور اور مورخ یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ ”نظریاتی ریاست کی وجہ سے پاکستان میں صحیح تاریخ لکھنے کی گنجائیش موجود نہیں ہے۔اگر چہ تاریخ کو مسخ کرنے کا عمل پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ بے ایمانی جاری ہے مگر ہمارے ہاں انتہائی بھدے انداز میں یہ کھیل جاری رکھا ہوا ہے۔یہاں تاریخ کا عمل روکا بھی جارہا ہے اور ساتھ ساتھ تاریخ کو مسخ کرنے کا عمل ریاستی سطح پر بھی جاری ہے جس کی ایک نہیں سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔مشہور مورخ ڈاکٹر کے کے عزیز(خورشید کمال عزیز)نے ہماری نصابی اور غیر نصابی تاریخی بدیانتیوں کو تاریخ کے قتل سے تشبیہ دیتے ہوئے اپنی انگریزی کتاب مرڈر آف ہسٹری((murder of historyمیں ا یسی سینکڑوں تاریخی اغلاط کی نشاندہی کی ہے اور ان میں پہلی کلاس سے لیکر گریجویشن لیول کی مطالعہ پاکستانسمیت سوشل سٹڈیز کی 66کتابیں شامل ہیں۔مرڈر آف ہسٹری کے مطالعہ سے کے اندازہ ہوتا ہے کہایک عرصہ سے قوم کے نونہالوں کو تاریخ کے نام پرجھوٹ پڑھایا جا رہا ہے ۔نو نومبر 2015 کو یوم علامہ محمد اقبال کے موقع پر معروف تجزیہ کار نجم سیٹھی نے جیو ٹی وی پر اپنے پروگرام” آپس کی بات” میں ساتھی میزبان منیب فاروق سے بات کرتے ہوئے تصور پاکستان کے نظریہ کا بانی چوہدری رحمت علی قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ علامہ اقبال کو نظریہ پاکستان کا بانی قرار دینا تاریخی طور پر غلط ہے ،انہوں نے خطبہ الہ آباد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں علامہ اقبال نے نظریہ پاکستان کی بات نہیں کی بلکہ ہندوستان کے اندر مسلمانوں کے لئے ریاستوں کی بات کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا تاریخ کی نظریاتی ریویژن کرنے کے لئے کیا گیا یوں ایسا کر کے بہت سوں کی اہمیت کو بڑھایا اور بہت سوں کی اہمیت کو گھٹا کر پیش کیا گیا ہے ۔کراچی کے ایک محقق سہیل احمد صدیقی نے چوہدری رحمت علی کے حوالے سے بعض تحریروں کو تاریخ سے مذاق قرار دیتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا ہے ۔ سہیل صدیقی صاحب سے عرض ہے حیرت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں،جہاں نظریہ ضرورت کے تحت بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تقریر کے الفاظ تک بدل دیے جائیں وہاں اگر کوئی” مورخ ”چوہدری رحمت علی کی خدمات کا ایک خط کے” لفافہ” سے موازنہ کرے تو یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ چوہدری رحمت علی کو لفظ پاکستان کے خالق تک محددود کرنے کے بجائے ان کی سیاسی بصیرت اورعلمی خدمات کو تصور پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے۔۔

Javed Chaudhry

Javed Chaudhry is a newspaper columnist in Pakistan. His series of columns have been published in six volumes in Urdu language. His most notable column ZERO POINT has great influence upon people of Pakistan especially Youth and Muslims of Pakistan. He writes for the Urdu newspaper Daily Express four time a week, covering topics ranging from social issues to politics.
Javed Chaudhry received a degree in Mass Communication from Islamia University, Bahawalpur in 1991. In 1997, Chaudhry joined Daily Jang as a columnist. All Pakistan Newspapers Society (APNS) declared him the Best Columnist of 1997 and 1998. In 1998, the Government of Pakistan honored him with an Excellency Award for his outstanding performance in the national journalism. In 2006, he joined the newspaper, Daily Express, and since then he has been a prime member of its team of columnists. He regularly contributes through his column Zero Point. Awards……………….All Pakistan Newspapers Society (APNS) declared him the Best Columnist of 1997 and 1998. In 1998, the Government of Pakistan honored him with an Excellency Award for his outstanding performance in the national journalism.

DR. MUHAMMAD AMJAD SAQIB (Sitara-a-Imtiaz)

A medical graduate from King Edward Medical College, Dr. Amjad Saqib was selected for the nation’s topmost bureaucratic institution, the elite Civil Service of Pakistan with great distinction in 1985. Having stood out as a public servant, right when his career was about to move towards higher echelons, he resigned in 2003 with the intent to dedicate himself to becoming a social entrepreneur and make a difference in societal change through Akhuwat – which had already been founded and launched by him in 2001 and had meanwhile started taking strides towards the force it was to become.

The salient feature of his public service career – one that perhaps changed the course of his life – was his last assignment, a five-year stint as general manager of the Punjab Rural Support Programme (PRSP) from 1998 to 2003.

It is here that he had the opportunity to closely examine the various initiatives of poverty alleviation, participatory development and conventional microfinance. And this made him realize that “something different had to be done”. This desire to do ‘something different’, something more effective as a panacea for the poor spurred him on to conceive and introduce an interest-free microfinance model based on the idea of Mawakhat or brotherhood.

This makes Akhuwat a unique microfinance organization – indeed the first of a kind. The model has by now been replicated in two countries but at close to $100 million in base capital Akuwat remains the largest such institution in the world.

Meanwhile, Dr. Amjad Saqib took his Master’s degree in Public Administration through Hubert H. Humphrey Fellowship from the American University, Washington D.C., USA. He also studied at LUMS, where he completed the one-year LUMS – McGill University Program in Social Enterprise & Management.

Dr. Saqib is founder of Akhuwat and Akhuwat is his real passion but he also renders honorary other services for many other NGOs. He is Vice Chairman Punjab Educational Endowment Fund, Chairman Management Committee Fountain House, Honorary Managing Director Punjab Welfare Trust for the Disabled, Member Board of Director Punjab Education Foundation, Member Syndicate Punjab University, Member Syndicate University of Education, Commissioner Punjab Health Care Commission, Member Punjab Red Crescent Society. Recently, Prime Minister of Pakistan appointed him Chairman Steering Committee for Prime Minister’s Interest Free Loan Programme.

Work:
Besides his pro bono work for Akhuwat, for a living Dr. Amjad Saqib is a highly sought after consultant, and has provided consultancy to various highbrow international development agencies, such as the Asian Development Bank, International Labour Organization, the UNICEF, the World Bank, Canadian International Development Agency, USAID and DFID.

This consultancy work has also been in his core area of interest: poverty alleviation, microfinance, social mobilization and education management.                                           Dr. Amjad Saqib is also a regular guest speaker at the Civil Services Academy (CSA), the National Institute of Public Administration (NIPA), the Lahore University of Management Sciences (LUMS) and many other professional forums. He has also been among the visiting faculty at the Kinnaird College, Lahore, the Institute of Leadership and Management (ILM) and the University of Punjab. He has spoken at Harvard, Cambridge, Oxford, LSE, Warrick and Kings College London.

In recognition of his services across many spheres, on March 23, 2010 the President of Pakistan honoured him with Sitara-a-Imtiaz, a most coveted civil award.

Publications:
Dr Amjad Saqib has also authored six books. These are: Shehr-e Lab-e-Darya (Khushal Khan Khattak Literary Award Winner), AikYadgarMushaira, Gautam Kay Des Mein (A travelogue to Nepal), published by Sang-e-Meel Publications), and Ghurbat aur Microcredit. Subsequently, he wrote another travelogue Akhuwat Ka Safar, and a compilation based on real life stories of victims of loan sharks, Dasht-e Zulmat. Another book, under the title Shahab-e Saqib is under publication.

Dr. Amjad Saqib indeed is a prolific writer, and his exceptionally well-written columns appear quite frequently for leading Urdu dailies Nawa-i-Waqt, Jang, Pakistan, Nai Baat and Jinnah. These are mostly on current affairs, events, ideas and personalities, and, according to critics, have the pleasing touch of a litterateur.                                              Books;

Dr. Amjad Saqib has written following books:
• Shahar-e-lab-e-Darya (Khush –Hal Khan Khattak Literary Award Winner)
• Aik Yadgar Mushaira
• Gotham Kay Des Main (A travelogue to Nepal, Sang-e-Meel Publications)
• Ghurbat aur Microcredit
• Shahab-e-Saqib (under publication)
• Dasht-e-Zulmat
• Akhuwat Ka Safar

He has edited following book:
• Devolution and Governance – Reforms in Pakistan (Oxford University Press)

Voluntary Assignments
1. Executive Director, Akhuwat – (2001 – to date)
Akhuwat is an interest free microcredit programme that provides small loans to the poor and helps them start a business and come out of poverty. It is first ever and the largest interest free microfinance programme in Pakistan and has so far served more than 47,000 poor families in fifteen cities.

2. Vice Chairman, Punjab Educational Endowment Fund (PEEF) – (Dec 2008 – to date)
PEEF is the largest educational fund in the country created by Government of the Punjab with initial seed money of Rs. 4 billion. It provides financial assistance to talented but needy students. Chief Minister Punjab is the Chairman of PEEF.

3. Managing Director, Punjab Welfare Trust for the Disabled (PWTD) – (Dec 2007 – to date)
PWTD endeavors for the treatment and rehabilitation of the persons with the disabilities. It is the largest endowment fund in the country for the disabled and works in collaboration with 80 NGOs working for the visually impaired, hearing impaired, mentally retarded and physically incapacitated persons. PWTD has served more than 2.8 million patients in last fifteen years.

4. Member Governing Body/Executive Committee, Punjab Red Crescent Society (2007-to     date)
Red Crescent is one of the oldest international NGOs and a part of global network for humanitarian support and relief efforts. Governor of the Punjab is the President of Governing body.

5. Chairman, Farrukh Amjad Trust (FA Trust) – (July 2008 – to date)
FA Trust is founded by Dr. Muhammad Amjad Saqib, his family and close friends. This Trust aims at supporting the poor, widows and the disabled.

6. Member Board of Directors of:
•  Fountain House Lahore (A project of Lahore Mental Health Association for the treatment and rehabilitation of mentally ill patients)
•  Abroo Welfare Trust (Educational Trust for education of poor students living in slums)
•  Abroo Welfare Trust (Educational Trust for education of poor students living in slums)
•  Line of help (An NGO working for disaster relief and rehabilitation of earthquake victims)
•  Anjuman Sulemania (Custodian of one of the biggest orphanage houses in Lahore)
•  Hum Pakistani Trust (An organization working for relief of disaster)
•  Punjab Fund for Rehabilitation of Special Persons (A State of the Art Rehabilitation Centre for Disabled     Persons) owned by Government of the Punjab
•  Member Board of Governors Children Library Complex
•  Member Provincial Consumer Protection Council (PCPC), constituted under Section 24 of Punjab Consumer Protection Act, 2005
•  Member of the Committee of Citizen Feed Back Model Project Government of the Punjab
•  Member of the Committee to Improve Services in Education Sector
•  Member of the Committee of Punjab Health Strategic Plan
•  Member of the Committee of Punjab Day Care Fund Society
•  Member of the Syndicate, University of the Punjab
•  Member of the Syndicate, University of the Education
•  Vice Chairman of the Committee of Prime Minister’s Microfinance Scheme

Education
•  MBBS (King Edward Medical College, Lahore)
• Hubert H. Humphrey Fellowship in Public Administration (One year training programme in best     universities and institutions in the USA) 1993-1994
•  Masters in Public Administration – MPA (The American University, Washington D.C. USA) 1994-1995
•  Graduate of LUMS – McGill University Social Enterprise & Management Programme (Lahore University     of Management Sciences – LUMS) 2003-2004

Khan Bahadur Molvi Fateh Din

After 1st World War, some gujjar clerks in Simla Secretariat manged an Anjuman-e-Gujjran every member paid two Annas per month, by this fund they arranged the boarding and lodging of the new comers from the villages and helped in providing the services. Following their examples such Anjumans were organized at Delhi and Lahore. These Anjumans render great services to wards their community. Every where such organizations were formed by these clerks. Mulvi Fateh ud Din Kushan consolidated in one unit. A general meeting was held at Hoshiarpur on 29th and 30th March 1941 AD, in which Mulvi Fateh ud Din was elected president of the Anjuman. In a meeting 1942 AD at Jallundar the rules and regulations of the Anjuman were approved and Anjuman was declared a non-political organization dealing only with the educational development. The Anjuman worked for the betterment of the Gujjar till the creation of Pakistan in 1947.
In June 1949, the old Anjuman-e-Gujjran was reinstated under the name of Anjuman-e-Markazya Gujjran Pakistan. Ch. Islam ud Din (son of Mulvi Fateh-ud-Din) Deputy Commissioner of Sailkot was elected as president.
On 29 August 1949, the Anjuman passed its rules and regulation which it was registered by the Pakistan Government Authorities. All local anjumans through out Pakistan were affiliated with central organization (Anjuman-e-Markazya Gujjran).

Page 1 of 4