Gujjar's Global Gateway

گجر قوم کا تعلق کہاں سے ہے-تحریرچودھری ظفر حبیب گجر صاحب

اسلام علیکم۔۔۔ ایک بنیادی غلط فہمی کا ازالہ۔۔۔۔میری طرح زیادہ تر گجر اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ گجر جارجیا (گرجستان) چیچنیا (چیچی سے) البانیہ (بانیاں سے) یا سنٹرل ایشیاء سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے ۔۔۔ ایسا نہیں ہے میں نے بھی جب تحقیق شروع کی تو میرا بھی یہی خیال تھا۔۔ کیونکہ ہمارے پاس موجودہ جتنے بھی تحقیق کے ذرائع دستیاب ہیں ان پر یورپ کا قبضہ ہے اور ہمارے پاس جتنی بھی معلومات پہنچتی ہے وہ مغرب کے نکتہ نظر سے آتی ہیں ۔۔ اور مغرب پوری دنیا میں مغربی اقوام کو سب سے بڑی حکمران قوموں کے طور پر پیش کرتا ہے۔۔ اصل میں جب بھی کوئی شخص تحقیق کو شروع کرتا ہے تو وہ اپنے علاقہ سے اس کو دوسری دنیا تک پھیلاتا ہے اور اپنے دستاب ذارئع کو استعمال کر کے اپنا نتیجہ اخذ کرتا ہے اس لیے جب یورپین نے گجروں پر تحقیق شروع کی تو ان کو اپنے ملکوں کے نام، کئی قبائل کے رسم و رواج نے اس غلط فہمی کا شکار کر دیا کہ گجر یورپ سے ہندوستان گئے یا یوریشیاء سے یا سنٹرل ایشیاء سے ہجرت کر کے ان علاقوں میں پھیل گئے ۔۔ اس کے علاوہ ان کے پاس واضح ثبوت گجر پرتیہار دور کے تھے جو کہ چھٹی سے گیارہویں صدی تک کا دور ہے اس دور میں گجر اپنے عروج پر تھے اور دوسرا اسلام ہر طرف پھیل رہا تھا مسلمان تاریخ دان تاریخ رقم کر رہے تھے اور مسلم تاریخ دانوں نے اس دور کے بارے میں لکھا اس کے بعد جب یورپین نے تاریخ لکھنا شروع کی تو مسلمانوں کی تاریخ دانوں کی لکھی تاریخ کو اپنے مطابق ڈھالنا شروع کر دیا۔۔ چونکہ ہمارے کوئی مورخ نہیں تھے یا اگر انہوں نے کچھ لکھا تھا تو وہ زمانے کی ستم ظریفی کی نظر ہو گیا اور مسلم تاریخ دانوں اور یورپین کی وجہ سے ہماری تاریخ دھندلا گئ۔۔ ہمارا وجود ہندوستان سے شروع ہوا ہم ہندوستان کے قدیم ترین قبائل میں سے ہیں ہم یہاں سے سنترل ایشیاء تک پھیلے یہاں سے ہی ہم افریقہ تک پھیلے اور یہیں سے ہم جاپان تک گئے ۔۔۔ ہم ہندوستان کی سرحدوں سے باہر کی طرف پھیلے ہیں نہ کہ باہر سے ہندوستان میں سمٹے ہیں ۔۔۔ بہت سے دوست اعتراض کریں گے کہ نہیں ایسا نہیں ہوا کیونکہ ان کے پاس یورپین کی لکھی تحریروں کے بہت سے حوالے ہیں ۔۔۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہم ہندوستان کی قدیم ترین اقوام میں سے ہیں ۔۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیسے ؟؟؟چودھری ظفر حبیب گجر 

 

ہمارا موضوع کہ گجر ہندوستان سے دوسرے علاقوں تک کیسے پھیلے؟؟؟

سب سے پیلے ہم کو ایک بنیادی بات کو سمجھانا ہو گا کہ جب ہم سوال کرتے ہیں کہ گجر کہاں سے تعلق رکھتے ہیں تو ہم کو اس وقت کے زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا چاہیے نہ کہ آج کے ۔۔ ہم آج کی جغرافیائی تقسیم کو مدنظر رکھتے ہوئے کم از کم 8000 سال پرانے واقعات کو نہیں سمجھ سکتے اس کے لیے ہم کو 8000 سال پرانی جغرافیائی تقسیم کو ذہن نشین کرنا ہو گاپھر ہم اس مسئلے کی گتھی کو شائد سلجھا پائیں۔۔ 

موجودہ جغرافیائی تقسیم 1923ء اور 1945ء کے بعد کی ہے ۔۔ اگر ہم پرانی جغرافیائی تقسیم کو دیکھتے ہیں تو ہم کو پتہ چلتا ہے کہ جب مسلمان اپنے عروج پر تھے آٹھویں صدی ہجری میں تو مسلمان جغرافیہ دان موجودہ برصغیر کو ہند، سندھ، تبت، کشمیر اور سراندیپ(سری لنکا) اور مختلف جزائر(مالدیپ) وغیرہ میں تقسیم

کرتےتھے۔۔مسلمانوں کے نزدیک جغرافیائی لحاظ سے بھی کبھی یہ ایک خطہ نہین تھا۔۔ ہند فارسی زبان کا لفظ ہے جو دریائے سندھ اور دریائے جمنا کے درمیانی  علاقے کو بولاجاتا تھا اسی طرح دریائے سندھ کے مغربی کنارے کو سندھ بولاجاتا تھا اس میں موجودہ پنجاب اور گجرات(انڈیا ) کا بھی کافی علاقہ شامل تھا۔۔ اس طرح موجودہ سنٹرل ایشیاء کی بھی یہ شکل نہ تھی۔۔ یہ بھی مختلف جغرافیائی تقسیم کا حصہ تھا۔۔ لیکن چونکہ جغرافیائی تقسیم ہمارا موضوع نہیں ہے اس لیے میں اس بات کا یہیں ختم کرتا ہوں ۔۔ اب ہم اس وقت کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے سوال کا جواب ڈوھونڈیں گے ۔۔ چودھری ظفر حبیب گجر 

 

تیسرا حصہ گجر قوم کا تعلق کہاں سے ہے؟؟؟

اسرائیلی روایات کے مطابق حضرت نوحؑ کے تین بیٹے تھے جن سے ساری نسلِ انسانی نے جنم لیا طوفانِ نوحؑ کے بعد۔۔ اس طرح ساری نسلِ انسانی بنی سام، بنی یافث  اور بنی حام میں تقسیم ہوتی ہے ۔۔۔ مسلمان مورخین نے بھی نسلِ انسانی کی اسی تھیوری کو بڑھاوا دیا اور ساری انسانی تاریخ کی بنیاد اسی تھیوری پر رکھی۔۔ اس تھیوری کو اگر ہم بنیاد بنا لیں تو گجر قوم کا تعلق بنی یافث سے ۔۔ یافث کے ایک بیٹے کا نام ترک تھا اور تقریبا سبھی عجمی قبائل کومر ابن ترک کی اولاد ہیں ۔۔ کومر کے ایک بیٹے کا نام خرز تھا جس سے گجر قوم کا نام جوڑا جاتا ہے اور قدیم اور جدید بہت سے مورخ گجر قوم کو ترک قوم کی شاخ خرز کا حصہ مانتے ہیں ۔۔ اس خرز قوم کا آبائی علاقہ خراسان تھا اگر اس وقت کے خراسان کو دیکھا جائے تو جغرافیائی لحاظ سے وہ علاقہ اب پاکستان، ایران اور افغانستان کا حصہ ہے خراسان اس وقت ایران کے کسی صوبے کا نام نہیں تھا بلکہ ایک ریاست کا نام تھا ۔۔ جناب جاوید راہی صاحب نے بھی اسی تحقیق کو آگے بڑھایا اور گجر قوم کو ترک النسل ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جیسے اور بہت سے محققین نے یہ کوشش کی ہے ۔۔ اسی طرح حام کے تین بیٹے ہند، سند اور حبشہ تھے ۔۔ جن سے ہندی، سندھی اور حبشی اقوام کو ثابت کیا جاتا تھا۔۔ یہ اسرائیلی روایات پر مبنی ہے 

لیکن میرا ایک سوال ہے کہ اگر ساری نسلِ انسانی حضرت نوحؑ کے تین بیٹوں سے ہے تو ان کی کشتی میں سوار باقی لوگ جو غالبا 80 کے قریب تھے وہ کدھر گئے ؟؟ کیا ان سے کسی نسل نے جنم نہیں لیا؟؟؟ اور قرآن مجید میں طوفانِ نوحؑ میں حضرت نوحؑ کے ایک بیٹے کے ڈوبنے کے بارے میں ذکر ہے وہ کون تھا اور اس کے ساتھ باقی بیٹوں کا ذکر کیوں نہیں ہے ؟؟؟ اور ویسے بھی اگر اسرائیلی روایات پر مبنی اس تھیوری کو پڑھیں تو پتہ چلتا ہے جیسے آج یورپی اقوام خود کو سب سے برتر ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہیں ایسے ہی بنی اسرائیل نے جابجا خود کو برتر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور باقی اقوام کو کمتر ثابت کیا ہے ۔۔ 

پہلی بات تو یہ کہ اس تھیوری پر بہت سے سوال اٹھتے ہیں لیکن اگر بالفرضِ محال اس کو سچ مان لیا جئے تو بھی یہ ثابت ہوتا ہے گجر قوم کی بنیادیں اسی خطے میں ہیں نہ کہ جارجیا یا چیچنا میں اور ہو سکتا ہے کہ وہ کسی دور میں ریاستِ خراسان کا حصہ رہے ہوں جس وجہ سے گجروں نے اس کو آباد کر کے اپنے نام دیے ہوں جیسے گجرات اور گجرانوالہ۔۔ لیکن خراسان کا مرکز وہ خطے کبھی نہیں تھے۔۔ 

چودھری ظفر حبیب گجر 

چوتھا حصہ گجر قوم کا تعلق کہاں سے ہے؟؟؟

یورپین محققین کے مطابق نسلِ انسانی کے تین گروہ تھےکاؤکشین ، نیگرو اور منگولین جو کہ اب تقریبا سات گروہوں میں تقسیم ہو چکے ہیں ان کے مطابق گجر نسل کا تعلق کاؤکشین نسل سے ہے اور تقریبا تمام یورپی اقوام کا تعلق کاؤکشین گروہ سے ہے اسی کو بنیاد بنا کر وہ گجر قوم کا چھٹی یا ساتویں صدی میں ہن نسل کے ساتھ ہندوستان میں ہجرت کا حوالہ ڈھونڈتے ہیں۔۔ اگر اس کو سچ مان لیا جائے تو پھر بھی بہت سے سوالات سر اٹھاتے ہیں کہ راجہ پورس کون تھا ؟؟ جس سے گجر گوت پوسوال نے جنم لیا اور جس نے سکندر سر لڑائی کی اور جس کی ریاست میں سکندر کو شکست بھی ہوئی اور وہ ایران کی طرف واپس چلا گیا لیکن یورپ نے اس شکست کو فتح میں بدل دیا اور کہا کہ اس نے راجہ پورس کو اس کی سلطنت واپس کر دی تھی باقی تو جس علاقے کو اس نے فتح کیا تھا کسی راجہ کو اس کی سلطنت واپس نہیں کی تھی اور راجہ پورس کی ریاست میں ہی اس کو شکست ہوئی تھی ۔۔۔ 

کوشان گجر کون تھے جنہوں نے گجرات انڈیا سے لیکر جارجیا(گرجستان) تک جن کی ریاست پھیلی ہوئی تھی اور جن کا دارالحکومت پرشپور یا موجودہ پشاور (پاکستان) تھا۔۔ دیکھیں کوشان ریاست کا نقشہ

کوشان ریاست کا نقشہکوشان ریاست کا نقشہ

جب ہم اس نقشے کو غور سے دیکھتے ہیں تو ہم کو بآسانی اس بات کی سمجھ آ جاتی ہے کہ کوشان شمالی ہند کے ساتھ موجودہ افغانستان کے علاقوں کے علاوہ سنٹرل ایشیاء  کے بھی حکمران تھے اور یہ سب سے غالب امکان ہے کہ اس دور میں گجر سنٹرل ایشیاء میں پھیلے اور جارجیا، چیچنیا اور البانیہ کے علاقوں تک پھیلے کیوںکہ جس وقت کوشان زوال کا شکار ہوئے اور موریہ خاندان کی حکومت قائم ہوئی تو انہوں نے گجروں کو ان کے علاقوں سے بیدخل کرنا شروع کیا تھا تو گجر ہندوستان کے ساتھ ساتھ سنٹرل ایشیاء، یوریشیاء ، عراق، اور ترکی وغیرہ کی طرف پھیلانا شروع ہو گئے کیونکہ ان کی حکومت کی سرحدیں ان علاقوں سے ملتی تھی اور وسیے بھی اس دور میں ویزے کی ضرورت تو پڑتی نہیں تھی اور نہ ہی آجکل کی طرح سرحدیں تھیں۔۔ اور پھر سے چھٹی صدی میں گجروں نے اپنے علاقوں کو واپس حاصل کیا جس کی وجہ سے اکثر محققین اس بات کا خیال کرنے لگے کہ شائد گجر چٹھی صدی میں آئے ہیں کیونکہ ایک لمبا عرصہ وہ کوشان اور گجروں کو ایک الگ حیثیت میں دیکھتے رہے ہیں اسی طرح شروع شروع میں ہن اور گجروں کو بھی ایک علیحدہ قوم تصور کیا جاتا رہا ہے۔۔چودھری ظفر حبیب گجر

پانچواں حصہ ۔۔ گجر قوم کا تعلق کہاں سے ہے؟؟؟اگر ہم دنیا کی جغرافیائی صورتحال کا جائزہ لیں تو دریائے نیل دنیا کا سب سے بڑا زرعی ڈیلٹا بناتا ہے اسی طرح دریائے سندھ  اور اس کے معاون دریا دوسرے نمبر کا زرعی ڈیلٹا بناتے ہیں۔۔۔ اسی طرح دنیا میں کھیتی باڑی کا آغاز وادئی نیل اور وادئی سندھ سے ہوا جو تقریبا 12000 سال پہلے کی بات ہے (دیکھیے کھیتی باڑی کی تاریخ گوگل پر سرچ کر لیں) دنیا کی قدیم ترین تہذیبیں میسوپٹیما (عراق، ترکی، ایران وغیرہ ) وادئی سندھ اور وادئی نیل میں ملتی ہیں اس کا مطلب ہے کہ دنیا کے قدیم ترین انسان بھی انہی علاقوں میں رہتے تھے ۔۔ میسوپٹیما سے سنٹرل ایشیاء ، یوریشیاء اور یورپ میں جانا آسان تھا،، مصر سے مڈل ایسٹ اور افریقہ میں پھیلنا آسان تھا اور وادئی سندھ سے سنٹرل ایشیاء اور ہندوستان کے علاقوں میں پھیلنا آسان تھا اس کو اگر ہم ایک دائرے میں پھیلائیں تو ہم کو آج کی موجودہ نسلوں کے پھیلاؤ کی سمجھ آجاتی ہے آج بھی دنیا کی نسلیں تقریبا ویسے ہی خدوخال اور تہذیب و تمدن کا گہوارہ ہیں ۔۔ چوتھے نمبر پر چین کی تاریخ آتی ہے ۔۔۔ اب ہم اگر یورپی محققین کی تحقیق پر جائیں تو وہ پوری دنیا پر یورپی نسلوں کو ہی حکمران دکھانے کی کوشش کرتے ہیں ،، ان سے سادہ سے سوالات ہیں کہ یورپ کے طبعی حالات میں تو آج کے انسانوں کا جینا مشکل ہو جاتا ہے جب وہاں برف باری ہوتی ہے اور منفی 20 تک درجہ حرارت چلا جاتا ہے یورپ کے کئی علاقوں کا بشمول روس سال کا زیادہ حصہ وہاں سردی رہتی ہے آج سے ہزاروں سال وہاں انسان کیسے رہتے ہوں گے آپ لاکھ ہالی وڈ کی فلمیں بنا کر یہ دکھانے کی کوشش کریں کہ انسان وہاں کیسے رہتے تھے لیکن حقیقت یہی ہے کہ فطرتی طور پر انسان ان علاقوں میں بستے تھے اور جیسے جیسے آبادی بڑھتی گئی تو طاقتور لوگوں نے کمزور لوگوں کو آباد علاقوں سے ویران علاقوں کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا اور جیسے آجکل بھی مفرور لوگ پہاڑوں اور ویرانوں کو اپنا ٹھکانہ بناتے ہیں تب بھی ایسے ہی ہوتا تھا گجر ایک قدیم قوم ہے اور گجروں کا تعلق ان تینوں میں سے کسی ایک علاقے سے ہے اگر گجر ترک ہیں تو پھر میسوپٹمیا سے تعلق ہو گا جو کہ تاریخ میں کہیں نہیں ملتا ایک امریکن تحقیق کر 

رہی ہے نیل سے فلپائن تک گجر قوم کا پھیلاؤ اس پر کل بات کریں گے ۔۔۔ اور وادئی سندھ سے گجروں کے تعلق کے کئی ثبوت ہیں